ٹیکس اصلاحات ناگزیر
عالمی بینک نے اپنی حالیہ ساؤتھ ایشیا ڈویلپمنٹ رپورٹ میں پاکستان کے کمزور اور غیر مؤثر ٹیکس نظام کی نشاندہی کرتے ہوئے ٹیکس بیس میں وسعت اور نظام میں بنیادی اصلاحات پر زور دیا ہے۔ عالمی ادارے کی یہ سفارش دراصل اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام غیر منصفانہ ہے‘ جہاں زیادہ آمدن والے بیشتر طبقات بدستور ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں جبکہ تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ دباؤ برداشت کر رہا ہے۔ ہر سال حکومت کی جانب سے ٹیکس وصولیوں کے اہداف تو بڑھا دیے جاتے ہیں لیکن ٹیکس نظام میں موجود خامیوں‘ ٹیکس چوری اور محدود ٹیکس دہندگان جیسے مسائل کی اصلاح پر توجہ نہیں دی جاتی۔ نتیجتاً ریونیو اہداف پورے نہیں ہو پاتے اور مالی خسارہ مزید بڑھتا جاتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال 59 لاکھ افراد نے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرائے‘ جو 25کروڑ آبادی والے ملک کیلئے انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ ٹیکس ادارے اور متعلقہ وزرا یہ تسلیم کر چکے کہ ملک میں سالانہ کھربوں روپے کی ٹیکس چوری ہوتی ہے۔ اس خلا کو پُر کیے بغیر نہ ریونیو بڑھ سکتا اور نہ عوام کو کوئی ریلیف مل سکتا ہے۔ عالمی بینک کی سفارشات ایک سنجیدہ وارننگ ہیں۔ ٹیکس بیس میں توسیع‘ ٹیکس چوری کے خلاف مؤثر کارروائی اور مالدارطبقات کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہی وہ راستہ ہے جس سے نہ صرف طے شدہ ٹیکس اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں بلکہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے طبقات کو غیر منصفانہ ٹیکسوں سے نجات بھی مل سکتی ہے۔