اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

جنگوں کی نوعیت میں تبدیلی

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہیں اور تیزی سے ٹیکنالوجی اپنا رہی ہیں۔ گزشتہ روز بہاولپور گیریژن کے دورہ کے دوران جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ جنگوں کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے‘ ٹیکنالوجی میں ترقی اس ارتقا کو آگے بڑھا رہی ہے اور اسکے نتیجے میں تمام سطحوں پر فکری تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں جنگوں کا تصور خاصی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ اب جنگیں محض سرحدوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ دورِ حاضر میں ان کی نوعیت یکسر بدل چکی ہے۔ گزشتہ سال مئی میں پاک بھارت چار روزہ جنگ اور اس کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنگیں اب عددی برتری یا محض ہتھیاروں کے بل پر نہیں لڑی جا سکتیں بلکہ اس کیلئے ٹیکنالوجی کی برتری درکار ہے‘ بہتر منصوبہ بندی اور بروقت فیصلے۔ نیز یہ کہ جنگ اب محض زمین‘ سمندر یا فضائوں تک محدود نہیں رہے گی۔ آج کا دشمن زمین کو تسخیر کرنے سے زیادہ ذہنوں کو اپنے زیر اثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ففتھ جنریشن وارفیئر اب کوئی کتابی اصطلاح نہیں رہی بلکہ ایک واقعاتی حقیقت بن چکی ہے اور اس کا مقابلہ ہر شہری کو کرنا ہے۔

 

عسکری قیادت نے اپنے حالیہ خطابات میں بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ جدید جنگیں اب ’ہائبرڈ‘ نوعیت کی ہیں۔ دشمن براہِ راست سامنے آنے کے بجائے انتشار‘ ہیجان اور داخلی خلفشار کے ذریعے ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ جنگ کا وہ میدان ہے جس میں گولی سے زیادہ سکرین اور کی بورڈ اہم ہو گئے ہیں۔ ’غیر محسوس دشمن‘ کی اصطلاح اس حقیقت کی درست عکاسی کرتی ہے کہ دفاعی لائن اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ہر فرد کے فون اور دماغ تک وسیع ہو چکی ہے۔ جنگ کی یہ نئی قسم جس کا اس وقت ہمیں بھی سامنا ہے‘ دو بڑے ہتھیاروں سے لڑی جا رہی ہے اور یہ ہتھیار ہیں؛ پروپیگنڈا اور سائبر وار۔ دشمن جھوٹی خبروں‘ پروپیگنڈا ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے ریاست اور عوام کے مابین خلیج پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا مقصد عوام کے اندر مایوسی پھیلانا اور ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہوتا ہے۔ یہ ایسی خاموش جنگ ہے جس میں سرحدی ہلچل کے بغیر دشمن معیشت اور داخلی سکیورٹی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ہم ریاست کیخلاف منظم سوشل میڈیا مہمات دیکھ چکے‘ جن کا مقصد مخصوص طبقات کو مشتعل کرنا اور سماج میں انتشار پھیلانا تھا۔ گزشتہ برس مئی میں ظاہری حربی آلات کیساتھ ڈیجیٹل جنگ بھی پوری قوت سے لڑی گئی اور دشمن کو اس میدان میں بھی شکستِ فاش سے دوچار کیا گیا۔ یہ معرکہ حق ہی کا سبق ہے کہ عنقریب ٹیکنالوجی اور سائبر وار فیئر فیزیکل وار فیئر کی جگہ لے لے گا۔

جنگوں کا یہ پیراڈائم شفٹ متقاضی ہے کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں سبقت حاصل کی جائے تاکہ دفاعِ وطن کے تقاضوں کو پوری طرح نبھایا جا سکے۔ نئی جنگوں میں اب صرف سرحد پر کھڑا سپاہی ہی دفاعِ وطن کا فرض نہیں نبھا رہا بلکہ ہر وہ شخص جو سائبر ورلڈ سے منسلک ہے‘ سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے‘ اس جنگ کا حصہ ہے۔ پاکستان کیلئے اب دفاع کا مطلب محض سرحدوں کی حفاظت نہیں‘ بلکہ اپنے ڈیجیٹل اثاثوں اور عوامی بیانیے کی حفاظت بھی ہے۔ بحیثیت قوم ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ دشمن کا ہدف محض ہماری زمین ہی نہیں‘ ہمارا اتحاد‘ ہمارا حوصلہ اور ہمارا نظریہ بھی اس کے نشانے پر ہے۔دشمن کے پروپیگنڈے اور افواہوں کا مقابلہ ہر شہری کو اپنے شعور کی سطح بلند کر کے کرنا ہے۔ قوم‘ ملک اور سلطنت کی یکسوئی اور باہمی اتحاد اس نئی جنگ کا سب سے کارآمد ہتھیار ہیں۔ اگر قوم متحد ہو‘ دشمن کے پروپیگنڈے کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتی ہو تو کوئی بھی نفسیاتی حربہ اس کے دفاع کو کمزور نہیں کر سکتا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں