اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی اور عوامی مشکلات

وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق 29جنوری کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران 18اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح میں 4.52 فیصد اضافہ ہوا۔ ایک سال کے دوران انڈوں کی قیمت میں تقریباً 43 فیصد‘ ٹماٹر 41فیصد‘ آٹا 38فیصد‘ گیس 29فیصد‘ سرخ مرچ 13 فیصد‘ بیف 12فیصد اور خشک دودھ کی قیمت میں 10فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ عوام کی قوتِ خرید پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں مقامی پیداوار میں کمی‘ درآمدی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتیں‘ لاجسٹک مسائل‘ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری وغیرہ شامل ہیں۔

اگر ان عوامل پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو عام آدمی کی زندگی مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔ اس صورتحال کے بروقت تدارک کیلئے حکومت کو غذائی اجناس کی مقامی پیداوار بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی تاکہ ان اجناس کی فراہمی میں استحکام آئے اور قیمتیں قابو میں رہیں۔ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے‘ اس ماہِ مبارک سے قبل منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے گرد شکنجہ کسنا بھی ناگزیر ہے۔ اگر مہنگائی پر قابو پانے کیلئے حکومت اور متعلقہ ادارے فوری اور جامع اقدامات کریں تو نہ صرف عوام کی زندگی آسان ہو سکتی ہے بلکہ معاشی استحکام بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں