انتظامی غفلت اور گورننس کی ناکامی
لاہور میں ماں اور بیٹی کے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کا واقعہ محض ایک حادثہ نہیں‘ انتظامی غفلت‘ ادارہ جاتی نااہلی اور گورننس کی سنگین ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس اندوہناک واقعے کے بعد متعلقہ اداروں کی جانب سے جس غیرسنجیدہ اور سرد مہری پر مبنی رویے کا مظاہرہ کیا گیا‘ اس نے عوامی اعتماد کو متزلزل کیا ہے۔ ایک ایسا واقعہ جس پر فوری ایمرجنسی رسپانس درکار تھا‘ اسے متعلقہ اداروں کی جانب سے پہلے جھٹلا یا گیا‘ پھر گھنٹوں تک تاخیری حربے اختیار کیے گئے۔پولیس کا کرداربھی افسوس ناک رہا۔ یہ المناک واقعہ ایک بار پھر یہ ثابت کرتا ہے کہ ہمارے غیر معمولی حجم کے شہرگورننس کے شدید بحران کا شکار ہیں۔ کئی کئی ممالک کی آبادی سے بڑے شہروں کا انتظام پرانی بنیادوں پر استوار ادارہ جاتی اور وسائل کے بے ہنگم نظام کیساتھ ممکن نہیں۔

اس صورتحال کو جوں کا توں رکھنے کی ضد عوام کیلئے مشکلات اور آلام میں اضافے کی صورت میں سامنے آتی رہے گی۔ کراچی کے گل پلازہ کی آگ اور لاہور کے بھاڑی گیٹ کے مین ہول کے حادثات ہمارے شہری نظام کی ناکامیوں کا ناقابل تردید ثبوت ہیں ۔ ایسے اندوہناک حادثات سے بچنے کے لیے جس قسم کا فعال ادارہ جاتی نظام درکار ہے ‘ صوبوں کی انتظا می بنیادوں پرتقسیم اس کا بدیہی تقاضا ہے۔ جب تک گورننس کے ڈھانچے میں موجود خامیوں‘ احتساب کے فقدان اور انتظامی نااہلی کا سنجیدہ حل نہیں نکلتا ایسے سانحات مستقبل میں بھی ہماری اجتماعی بے حسی پر سوال بن کر ابھرتے رہیں گے۔