"KMK" (space) message & send to 7575

بلی کے گلے میں گھنٹی والا معاملہ

اس ملک کو بنے آٹھ عشرے اور اس عاجز کو اس ملک کی سیاست کو دیکھتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے پانچ عشرے ہونے والے ہیں۔ ملکی سیاست کو پچاس سال دیکھنے کے بعد یہ دعویٰ تو رہا ایک طرف کہ میں اس ملک کی سیاست کو سمجھتا ہوں‘ اس بارے میں گمان کرنا بھی خام خیالی کے علاوہ اور کچھ نہیں‘ کہ کسی چیز کو سمجھنے کیلئے اس کے بنیادی اجزا کو سمجھنا بہت ضروری ہے اور ہماری سیاست کے بنیادی اجزا ہی سرے سے غیرسیاسی اور خود سیاستدان بھی اپنے زورِ بازو پر بھروسہ کرنے کے بجائے بازوئے شمشیر زن پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں۔ ایسے میں ہم جیسے عامی بھلا سیاست کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں۔
اس ملک کی سیاست پر ابتدا سے ہی ''سو سنار کی اور ایک لوہار کی‘‘ کے عین مطابق زور آوروں کا ''ودان‘‘ لگتا ہے تو سب کچھ ملیا میٹ ہو جاتا ہے۔ قانون‘ آئین‘ اخلاقیات‘ قاعدے‘ ضابطے اور اصول ہی سیاسی بنیادی اجزا نہ ہوں تو بھلا بندہ کیا کہہ سکتا ہے۔ ہاں! البتہ اس عاجز سے سیاست کا طالب علم ہونے کا دعویٰ بہرحال کوئی نہیں چھین سکتا۔ لیکن یہ بات بھی واضح ہو کہ ملکی سیاست کا 50سال تک طالب علم رہنا بھی بالکل ویسا ہے جیسا کہ پاکستان کی کاٹن جننگ انڈسٹری میں اگر کوئی شخص یہ کہتا تھا کہ اس کا کاٹن جننگ میں تیس سالہ تجربہ ہے تو اس شعبے کے اصلی تجربہ کار لوگ کہتے تھے کہ پاکستان میں یہ دعویٰ ہی خام ہے کہ کوئی شخص کہے وہ جننگ کا تیس سالہ تجربہ رکھتا ہے‘ ہاں اس کا ایک سالہ تجربہ تیس بار ضرور ہو سکتا ہے۔ کاٹن جننگ کا ہر سیزن نیا تجربہ‘ نئی صورتحال‘ نئے مصائب اور نئے نتائج لے کر آتا تھا۔ ایسے نت نئے تجربے اور ایسے انوکھے نتائج کہ پہلے کسی کا ان سے پالا ہی نہ پڑا ہو۔ اس لیے کسی کے تیس سالہ تجربے کو ایک سالہ تجربہ تیس بار کہا جاتا تھا کہ ایک سال کا تجربہ دوسرے سال سے نہ تو ملتا تھا اور نہ ہی کام آتا تھا‘ یہی حال اس عاجز کا ہے کہ اس کے پاس بھی پاکستانی سیاست کی طالب علمی کا ایک سالہ تجربہ پچاس بار ہے۔ اور ہر سال کا تجربہ ایسا نامعقول ہے کہ اگلے سال کام نہیں آتا۔
سیاستدانوں کا یہ حال ہے کہ جس اکیڈمی سے مکمل تربیت لے کر آتے ہیں اسی سے الجھ بیٹھتے ہیں۔ خوار ہونے کے بعد عقل ٹھکانے آتی ہے تو ایک پنجابی محاورے کے مطابق وہ ''آنے والی تھاں‘‘ پر آ جاتے ہیں مگر تب تک بدمزگی اور بے اعتباری اس بلندی پر پہنچ چکی ہوتی ہے کہ ہر دو فریقین ایک دوسرے کو بظاہر قبول کرنے کے باوجود دل ہی دل میں دوسرے کو غچہ دینے اور رگڑا لگانے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ سیاستدانوں کی تربیتی اکیڈمی نے بھی ان کو ساری عمر ہانکنے سے کم پر سمجھوتہ کرنے کا صفحہ پھاڑ رکھا ہے۔ جب تک زور آور سیاستدانوں کو اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھائے رکھتے ہیں‘ ایک پیج پر ہونے کا دعویٰ چار دانگ عالم بجتا رہتا ہے اور جیسے ہی معاملات خراب ہوتے ہیں کوئی جی ٹی روڈ پر یہ پوچھتا پھرتا ہے کہ مجھے کیوں نکالا اور کوئی اپنے سابقہ آقائے ولی نعمت کو میر جعفر اور میر صادق قرار دینے پر آ جاتا ہے۔ ایک روز میں نے پریشانی کے عالم میں حسبِ معمول شاہ جی سے رابطہ کیا اور ان سے دریافت کیا کہ تھوڑا عرصہ پہلے تک ایک ہی پیج پر ہونے کے دعویداروں کے درمیان گڑ بڑ کیسے ہو جاتی ہے اور معاملات خراب کیسے ہو جاتے ہیں؟ شاہ جی میری طرف دیکھ کر بڑے طنزیہ انداز میں مسکرائے۔ میری لاعلمی اور نالائقی پر منہ سے کچھ کہے بغیر اپنے چہرے کے تاثرات سے تقریباً تقریباً ملامت بھرا پیغام بھیجا اور پھر کہنے لگے: بندۂ خدا! تمہیں اتنا بھی علم نہیں کہ جب کسی پیج پر یعنی صفحے پر زیادہ وزن پڑ جائے تو وہ پھٹ جاتا ہے۔ پس ادھر بھی یہی ہوتا ہے۔ جب اس اکلوتے پیج پر کافی دن بیٹھے بیٹھے اور ایک دوسرے پر توقعات کا بوجھ لادنے والا معاملہ حد سے گزر جاتا ہے تو بے چارہ نازک پیج یہ سارا وزن برداشت نہیں کر پاتا اور بالآخر پھٹ جاتا ہے۔ تم وہ سامنے پڑی ہوئی کاپی سے ایک صفحہ پھاڑو اور اس پر رکھا ہوا وزن بڑھاتے جاؤ تو تمہیں چند منٹ بعد ہی سارا معاملہ سمجھ میں آ جائے گا کہ آخر یہ ''ایک پیج‘‘ کیسے پھٹ جاتا ہے۔
پھر بغیر پوچھے ہی فرمانے لگے کہ جب یہ ایک پیج پھٹ جاتا ہے تو پھر ہر فریق دوسرے کو اس کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔ زور آور فریق ایک نیا پیج نکالتا ہے اور پہلے والے فریق کے کسی مخالف کو بطور متبادل اس ایک پیج پر بٹھا لیتا ہے۔ تھوڑے دن بعد جو باتیں پہلے اچھی لگ رہی ہوتی ہیں وہی بری لگنے لگ جاتی ہیں۔ توقعات کا وزن بہت بڑھ جاتا ہے اور توقعات کا یہی بوجھ بالآخر اس ایک پیج کو پھاڑ دیتا ہے اور کہانی پھر وہیں سے شروع ہو جاتی ہے جہاں کچھ عرصہ پہلے ختم ہوئی ہوتی ہے۔
جن لوگوں نے ایک دوسرے کے پیٹ پھاڑ کر دولت نکالنے کے دعوے کیے ہوتے ہیں وہ ایک دوسرے کے پیٹ کے کیڑوں کے محافظ بن جاتے ہیں۔ جن لوگوں نے اسمبلی میں قمیض کے کف چڑھا کر اور منہ سے کف بہاتے ہوئے جن کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے دعوے کیے ہوتے ہیں وہ ان کی عزت و آبرو کے تحفظ کے قانون کے داعی بن جاتے ہیں۔ ایسے میں کوئی شخص کس طرح یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ پاکستانی سیاست کو سمجھنے کا پچاس سالہ تجربہ رکھتا ہے۔ ہاں یہ ضرور کہہ سکتا ہے کہ وہ اس ملک کی سیاست کا ایسا طالب علم ہے جو گزشتہ پچاس سال سے ایک ہی کلاس میں بیٹھا ہوا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر سال اس کی کلاس کا کورس تبدیل ہو جاتا ہے اور پرچے میں آؤٹ آف کورس سوالات آ جاتے ہیں نتیجتاً یہ طالب علم فیل ہو کر دوبارہ اسی کلاس میں بھیج دیا جاتا ہے۔ یہ نالائق طابعلم پچاس برس میں پرموٹ نہیں ہو سکا۔ سب سے زیادہ شرمندگی تب ہوتی ہے جب بیرون ملک کوئی دوست پاکستان کے سیاسی حالات کے بارے سوال کرتا ہے۔ اول تومیں کہہ دیتا ہوں کہ میں سیاسی گفتگو سے تائب ہو چکا ہوں مگر دوست میری بات پر یقین ہی نہیں کرتے۔ ان کا خیال ہے کہ اخبار سے وابستہ ہونے کے باعث مجھے ''اندر کی باتوں‘‘ کا علم تو ہے مگر میں انہیں یہ راز بوجوہ نہیں بتاتا۔ میں انہیں سمجھاتا ہوں کہ اگر آپ کا خیال ہے کہ مجھے اندر کی باتوں کا کوئی علم ہے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ پاکستان میں تو اندر کی باتوں کا انہیں بھی کوئی علم نہیں جو خود اندر کے لوگ ہیں۔ خاص طور پر آج کل تو یہ عالم ہے کہ ہر روز صبح نیا پروگرام بنتا ہے اور شام کو تبدیل ہو جاتا ہے۔ سارے معاملات کو بگاڑنے والے بھی وہی ہیں جو سنوارنے پر لگے ہوئے ہیں۔ حالات خراب کرنے والوں کا خیال ہی نہیں یقین ہے کہ حالات کسی اور نے خراب کیے ہیں جبکہ وہ اسے بہتر بنا رہے ہیں۔ جب حالات خراب کرنے والوں کو ہی خرابی در خرابی کا ادراک نہ ہو تو بھلا بہتری کیسے ممکن ہے؟
دو روز پہلے تنگ آکر ایک بار پھر شاہ جی کے گھٹنے پکڑے اور دستگیری کی درخواست کی۔ آغاز میں ہی اندازہ ہو گیا کہ آج سید بادشاہ کے ستارے سیدھے ہیں اور ہماری عزت محفوظ ہے۔ کسی قسم کا طنز کرنے یا طعنہ مارے بغیر ہی کہنے لگے: پوچھ بچہ کیا پوچھتا ہے؟ میں نے کہا: شاہ جی اس روز افزوں مائل بہ ابتری صورتحال کا کوئی حل ہے؟ معاملات کہیں جا کر رکتے دکھائی دیتے ہیں؟ معاشی حالت میں بہتری کا کوئی امکان ہے؟ معاملات ایک پیج پر ہونے سے آگے نکل سکتے ہیں؟ بے یقینی کی صورتحال سے نجات کا کوئی ذریعہ ہے؟ شاہ جی نے ہاتھ کے اشارے سے مجھ رکنے کا کہا۔ پھر کہنے لگے: ویسے تو اتنے سارے سوالات کے جوابات بھی اتنے ہی ہونے چاہئیں لیکن تمہاری اور اپنی آسانی کیلئے اس کا جو ایک واحد حل مجھے دکھائی دیتا ہے وہ بہت ہی آسان ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھ دی جائے‘ لیکن مسئلہ وہی پرانے والا ہے کہ یہ کام ہم چوہوں کے ذمے آن پڑا ہے۔ لہٰذا نتیجہ تمہارے سامنے ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں