اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

شراکت داروں میں ہم آہنگی

وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز برآمدکنندگان اور کاروباری شخصیات کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہاں ملک کے معاشی مسائل کی جانب توجہ دلائی وہیں انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ حکومت اور فوج کی پارٹنرشپ اسی طرح چلتی رہی تو پاکستان دنیا کے نقشے پر مضبوط ملک بن کر ابھرے گا۔اس میں دو رائے نہیں کہ اہم قومی شراکت داروں میں ہم آہنگی قومی ضرورت اور مسائل اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے ناگزیر ہے۔ اس وقت ملک عزیز کو متعدد بڑے چیلنجز در پیش ہیں ‘قومی یکجہتی کے بغیر جن سے نمٹا نہیں جاسکتا۔ مثال کے طور پرسکیورٹی کی بہتر صورتحال کے بغیر کسی ملک میں پائیدار ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ملکی امن و امان اور معیشت کو لازم ملزوم ہیں اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کا فروغ بہت حد تک امن و امان کیساتھ جڑا ہوا ہے۔ سرمایہ کار اسی ملک کا رخ کرتے ہیں جہاں امن‘پالیسی تسلسل اور ادارہ جاتی استحکام ہو۔ اگر سکیورٹی اقدامات محض وقتی ہوں اور معاشی اصلاحات ادھوری رہیں تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔

پاکستانی معیشت کا ایک بڑا مسئلہ بیرونی سرمایہ کاری اور برآمدات میں مسلسل کمی کا ہے۔ یہ چیلنج محض عالمی حالات کا نتیجہ نہیں بلکہ اندرونی پالیسی کمزوریوں کا بھی عکاس ہے۔ صنعتوں کو درپیش بلند پیداواری لاگت اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ قرار دی جاتی ہے۔پاکستان میں صنعتی پیداوار کی لاگت خطے کے 34ممالک سے زیادہ ہے جو کسی بھی سرمایہ کار کیلئے واضح منفی اشارہ ہے۔ بجلی‘ گیس‘ ٹیکسز‘ شرح سود اور لاجسٹکس کے مسائل نے صنعت کو غیر مسابقتی بنا دیا ہے۔ اگر حکومت واقعی برآمدات بڑھانا اور بیرونی سرمایہ کاری لانا چاہتی ہے تو اسے فوری طور پر توانائی اصلاحات‘ ٹیکس نظام کی سادگی اور کاروباری ماحول کی بہتری پر توجہ دینا ہوگی۔وزیر اعظم نے گزشتہ روز صنعتکاروں کی اسی تقریب میں صنعتوں کیلئے بجلی کی قیمت میں چار روپے فی یونٹ کمی اور برآمد کنندگان کیلئے ری فنانس ریٹ میں 300 بیسس پوائنٹس کی کمی کر کے اسے 4.5فیصد تک لانے کا جو اعلان کیایہ خوش آئند اقدامات ہیں۔ اس سے کاروباری لاگت کے مسائل میں بڑی حد تک کمی آنے کی توقع ہے۔

تاہم ان اقدامات کے ثمرات کا اندازہ مالی سال کے آئندہ پانچ ماہ کے دوران برآمدات کے حجم سے ہو گا۔ حکومت کی جانب سے صنعتکاروں کے دو بڑے مطالبات کو بڑی حد تک تسلیم کر لیا گیا ہے‘ اب صنعتی حلقوں کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ اس کے اثرات برآمدات میں اضافے کی صورت میں نظر آئیں۔ حالیہ برسوں کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری خصوصاً صنعتی شعبے میں ‘ کم ہوئی ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران گزشتہ مالی سال کے اسی دورانیے کی نسبت براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 25 فیصد کمی آئی۔ حکومت کو اس معاملے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے تا کہ سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی آبادی ہونے کے ناتے بہت بڑی کنزیومر مارکیٹ ہے ۔ ایسی معیشت صنعتی سرمایہ کاری کیلئے پرکشش ہوتی ہے‘ تو کیا وجہ ہے کہ ملکِ عزیز نئی سرمایہ کاری اور صنعتوں کو متوجہ نہیں کر پا رہا ‘ ان عوامل کا جائزہ لینا چاہیے ۔

حکومت کو چاہیے کہ صنعتی اور کاروباری شعبے کی بہتری کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات پر بھی توجہ دے تا کہ قومی ترقی حقیقی معنوں میں نظر آئے ۔ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈکس میں ملک عزیز دنیا کے 193ممالک میں 168 نمبر کے ساتھ انسانی ترقی کی درجہ بندی میں نچلی سطح پر ہے۔ سکول سے باہر بچوں کی سب سے بڑی تعداد اورپانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچوں میں سٹنٹنگ بھی ایسے مسائل ہیں جن کا ملکی اور انفرادی معیشت کے ساتھ بہرحال بڑااہم تعلق ہے۔ عالمی نقشے پر ایک مضبوط ملک کے طور پر پہچان بنانے کیلئے معیشت کیساتھ ساتھ عوامی فلاح و بہبود‘ تعلیم ‘ صحت اور ترقی پر بھی توجہ دینا ہو گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں