اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بسنت‘ ایک امتحان

دو دہائیوں کے طویل انتظار کے بعد لاہور میں محدود پیمانے پر رنگوں اور پتنگوں کے تہوار بسنت کی واپسی ہو رہی ہے لیکن بہار کے جشن کا یہ میلہ محض ایک روایتی تہوار نہیں بلکہ حکومت کے لیے ایک کڑا انتظامی امتحان بن کر آ رہا ہے۔ جنوری کے مہینے میں گلے پر ڈور پھرنے کے رپورٹ ہونے والے پانچ واقعات اس تلخ حقیقت کی جانب توجہ مبذول کرا رہے ہیں کہ قاتل ڈور کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ۔ اگرچہ ابھی تک پنجاب بھر میں پتنگ بازی پر پابندی عائد ہے مگر اس کے باوجود ڈور پھرنے کے واقعات نے شہری تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت کا احساس اجاگر کیا ہے۔ نیز قوانین محض سرکاری فائلوں تک محدود رہنے کے بجائے ان کا گلی محلوں کی سطح پر اطلاق بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس حوالے سے موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈ کی پابندی کو بہرصورت یقینی بنایا جانا چاہیے‘ کہ اس کے بغیر تحفظ کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔ تہواروں کا مقصد شہریوں کی زندگی کو مسرت سے بھرنا ہوتا ہے‘ انہیں عمر بھر کا صدمہ دینا نہیں۔ بسنت کی کامیابی کا دارو مدار حکومتی پابندیوں کے نفاذ کے ساتھ شہریوں کے ذمہ دارانہ رویے پر بھی ہے۔ اگر اس بار بسنت کا یہ تہوار انسانی جانوں کے ضیاع کے بغیر گزرتا ہے تو یہ ثقافتی میلے کی جیت ہو گی وگرنہ ایک بار پھر یہ تہوار پابندیوں کی نذر ہو سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں