اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی، ہمہ جہت خطرہ

 بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ امن وامان کے خطرات کی سنگینی شدت کے ساتھ موجود ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطابق دہشت گردوں کی 145 لاشیں حکومت کے پاس ہیں۔ دہشت گردوں کا مقصد عوام میں خوف پیدا کرنا اور پاکستان کے مثبت عالمی تاثر کو زک پہنچا کر اپنے سرپرستوں کے مقاصد کو پورا کرنا ہے۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کی سنگینی ڈھکی چھپی نہیں۔ اس بیرونی سپانسرڈ دہشتگردی کے مقابلے کیلئے ہمیں داخلی سطح پر اتحاد اور قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ حالیہ واقعات نے بلوچستان میں امن وامان کی جس سنگین صورتحال کو افشا کیا انسدادِ دہشت گردی کی مؤثر حکمت عملی کیلئے ان واقعات کو بطورمثال سمجھنا چاہیے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا‘ ملکِ عزیز کے معدنی وسائل سے مالا مال دونوںصوبے دہشت گردی کا ہدف بنے ہوئے ہیں۔ دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے محرکات بظاہر مختلف مگر حقیقت میں یکساں ہیں۔

بھارت براستہ اور بذریعہ افغانستان دہشت گردی کے ہر واقعے کا ذمہ دار ہے۔ پاکستانی قوم کیلئے یہ ایک چیلنج ہے کہ دشمن کے معاندانہ حربوں اور ناپاک منصوبوں کو ناکام بنایا جائے۔ یہی ترقی پذیر اور خوشحال پاکستان کا راستہ ہے۔ یہ کام صرف سکیورٹی فورسز کے کرنے کا نہیں‘ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کو بروئے کار آنا ہوگا۔ یہ قومی ترقی اور انفرادی واجتماعی خوشحالی کی بقا کا مظہر ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف عوامی رائے کو تقویت دینے‘ باہمی مسائل کو حل کرنے اور ترقی وخوشحالی کے مشترکہ مقصد کی جدوجہد کیلئے سیاسی رہنماؤں اور رائے عامہ پر اثر رکھنے والے سبھی حلقوں کو اس صورتحال میں کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ سماج کو دشمن عناصر کے پراپیگنڈے‘ لالچ اور فریب سے بچانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ حکومت اور سماجی لیڈرشپ اپنا کردار ادا کرے۔ سیاسی اختلافات کو اس کام میں بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے؛ چنانچہ قومی ہم آہنگی کی پہل یہیں سے ہونی چاہیے کہ سیاسی قائدین اپنے اختلافات کو بھلا کر قومی مقصد کیلئے مل بیٹھیں۔

بلوچستان جیسے علاقے میں جہاں قبائلی روایات اب بھی موجود ہیں‘ سیاسی بڑوں کا عوام کو اعتماد میں لینا اور انہیں ان کے فائدے نقصان سے آگاہ کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ عام آدمی کے ساتھ حکومت کا کم رابطہ‘ ان کی ضرورتوں اور مسائل سے لاتعلقی اور بے قدری دہشت گردوں کے مقاصد میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ عام آدمی کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری‘ اعتماد سازی اور فلاح وبہبود کے اقدامات میں اضافہ دہشت گردوں کے پراپیگنڈے کا توڑ کر سکتا ہے۔ بدقسمتی سے عام آدمی ہمارے ہا ںشاذ ونادر ہی حکومتی ترجیحات میں آتا ہے۔ یہ خلا ملک دشمن عناصر کے منفی مقاصد کی آبیاری کیلئے موافق ماحول پیدا کرتا ہے۔ محرومی‘ غربت اور ناراضی کے احساسات اسے مزید تقویت دیتے ہیں۔ دہشت گردی کو ایک ہمہ جہت خطرہ سمجھتے ہوئے اس کے سدباب کی ہر ممکن تدبیر کرنا ہو گی۔

سکیورٹی فورسز کی آپریشنل کارروائیاں اپنی جگہ مگر سماج میں سوچ کی تبدیلی کے ضروری عمل کے بغیر دہشت گردی کی آگ کو پوری طرح نہیں بجھایا جا سکتا۔ سماجی شعور میں موجود تلخیاں اور غلط فہمیاں راکھ کی تہہ میں دبی چنگاری کی طرح ہوتی ہیں‘ جب بھی حالات پیدا ہوں گے یہ چنگاری بھڑک اُٹھے گی۔ دشمن معرکہ حق میں منہ کی کھانے کے بعد اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ روایتی جنگ میں تو وہ پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتا چنانچہ دشمن کی جانب سے تخریب کاری‘ دہشت گردی اورسماجی تلخیوں کو ہوا دینے کے حربوں  سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے اندیشے پہلے سے زیادہ ہیں۔ یہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ ہم پہلے سے زیادہ احتیاط اور مستعدی کا مظاہرہ کریں اور کوئی ایسی گنجائش نہ چھوڑیں جو دشمن کیلئے فائدے کا سبب بنے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں