فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال
اسلام آباد‘ جو ملک کا سب سے جدید اور منظم شہر سمجھا جاتا ہے‘ میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال شہری منصوبہ بندی‘ ترقیاتی ادارے اور متعلقہ حکام کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سی ڈی اے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی 6500 عمارتوں کے سروے میں معلوم ہوا کہ اکثر بلند وبالا عمارتوں اور کمرشل پلازوں میں فائر سیفٹی کے بنیادی آلات تک موجود نہیں‘ سیفٹی پلان جو نقشہ پاس کرانے کے وقت دکھایا گیا تھا‘ اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ اگرچہ اب تمام عمارتوں کو سیفٹی اقدامات مکمل کرنے کیلئے دو ہفتے کی مہلت دی گئی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ مہلت دہائیوں کی غفلت کا ازالہ کر پائے گی؟ گُل پلازہ آتشزدگی سانحے نے ملک بھر میں بلند وبالا اور کمرشل عمارتوں کی سیفٹی کے حوالے سے جو حساسیت پیدا کی ہے‘ اس کا تقاضا یہ ہے کہ سیفٹی سروے محض وقتی اقدام کے طور پر نہ ہو بلکہ اسے ایک مستقل مہم کے طور پر قومی رویہ بنایا جائے۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فائر سیفٹی چند سلنڈر دیوار پر لٹکانے کا نام نہیں‘ یہ انسانی زندگی کے تحفظ کا نظام ہے‘ جس میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ ماہرین کے مطابق اگر کسی عمارت میں فائر سیفٹی سسٹم نصب ہو تو آتشزدگی کی صورت میں جانی نقصان کو 90 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ تمام شہروں میں بلڈنگ سیفٹی سروے کرانے کی ضرورت ہے‘ نیز سیفٹی قوانین پر بھی نظر ثانی کی جانی چاہیے۔ کسی بھی کمرشل بلڈنگ کا این او سی سیفٹی اقدامات کو یقینی بنائے بغیر جاری نہیں کیا جانا چاہیے۔