اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی بے قابو

 پچھلے کئی ہفتوں سے مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ادارہ شماریات کے مطابق چھ فروری کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران مہنگائی میں سالانہ بنیادوں پر 4.84 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔ حکومت کی طرف سے ملک میں مہنگائی کو کم ترین سطح پر لانے کے مسلسل دعوے کیے جا رہے ہیں لیکن یہ اعداد و شمار مہنگائی کی شرح میں کمی کے دعوؤں کی قلعی کھولنے کیلئے کافی ہیں۔ ایک سال کے دوران ٹماٹر 80فیصد‘ انڈے 39فیصد‘ آٹا 35فیصد‘ گیس 30 فیصد اور سرخ مرچیں 13فیصد مہنگی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب رمضان المبارک کے قریب آتے ہی سرکاری نرخ ناموں کی کھلے عام خلاف ورزی بھی شروع ہو چکی ہے۔

حکومت کو ادراک ہونا چاہیے کہ عوام کی قوتِ خرید بڑھائے اور پرائس کنٹرول کا نظام ٹھیک کیے بغیر مہنگائی سے نمٹنا ممکن نہیں۔ ضلعی انتظامیہ سرکاری نرخ ناموں کا اجرا کرکے اپنے فرائض سے بری الذمہ ہو جاتی ہے لیکن اصل کام ان نرخ ناموں پر عملدرآمد کرانا ہے جس جانب توجہ نہیں دی جا رہی۔ ضروری ہے کہ ضلعی سطح پر پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو متحرک کرکے منافع خوری کی روک تھام ممکن بنائی جائے۔ علاوہ ازیں مہنگائی میں کمی یقینی بنانے کیلئے عوام کو روزگار کے مناسب مواقع بھی فراہم کیے جانے چاہئیں کیونکہ روزگار کے بغیر معاشی سکت میں بہتری کا کوئی امکان نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں