معاشی بحالی اور استحکام
گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ترسیلاتِ زر کا حجم 42ارب ڈالر سے زائد رہے گا جبکہ ملکی معیشت اگلے دو سال تک بحالی اور استحکام کے مرحلے میں رہے گی اور اس دوران پائیدار شرحِ نمو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ملکی معیشت میں استحکام اور بتدریج بہتری کیلئے پائیدار شرح نمو ناگزیر ہے۔ ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیادوں پر آٹھ فیصد سے زیادہ اضافے کا تخمینہ بھی خوش آئند ہے کہ ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں‘ جو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو قابو میں رکھنے اور زرِمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

ضروری ہے کہ حکومت ملک میں سرمایہ کاری کے لیے بھی سازگار ماحول فراہم کرے تاکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی محض اپنے اہلِ خانہ کی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ صنعتی‘ زرعی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جانب بھی راغب ہوں۔ شفاف پالیسیوں‘ ٹیکس نظام میں سہولت‘ سیاسی و معاشی استحکام اور قانونی تحفظ کے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ برآمدات میں اضافے‘ درآمدی انحصار کم کرنے‘ توانائی اصلاحات‘ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری جیسے اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ یہی جامع حکمتِ عملی ملک کو پائیدار معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔