اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

اسلام آباد میں دہشت گردی

اسلام آباد کے علاقے ترلائی کے امام بارگاہ میں خودکش دھماکا ملک میں سکیورٹی صورتحال پر سوالیہ نشان ہے۔ حالیہ کچھ ماہ کے دوران اسلام آباد میں یہ دوسرا خود کش دھماکا تھا۔ گزشتہ برس نومبر میں اسلام آباد کچہری میں ایک خودکش بمبار نے خود کو اُڑا لیا تھا جس سے 12 افراد شہید ہو گئے۔ ترلائی امام بارگاہ میں شہادتوں کی تعداد بوقت تحریر 31 بتائی جا رہی ہے‘ جبکہ متعدد شدید زخمی اسلام آباد کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ اسلام آباد میں دونوں خود کش حملے پُرہجوم مقامات پر ہوئے‘ ایسے مقامات کو نشانہ بنانے کی یہ وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ دہشت گرد ان حملوں سے زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ اسلام آباد کچہری میں حملہ کرنیوالے خودکش بمبار کو کمرہ عدالت میں داخل ہونے سے روک لیا گیا تھا‘ بصورت دیگر جانی نقصان کہیں زیادہ ہونے کا اندیشہ تھا‘ ترلائی امام بارگاہ میں حملہ کرنیوالے دہشت گرد کو بھی گیٹ پر روکے جانے کا بتایا جا رہا ہے۔ تین ماہ کے دوران اسلام آباد میں دو خود کش دھماکے اور وہ بھی خاصے پُرہجوم مقامات پر‘ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وفاقی دارالحکومت کی سکیورٹی میں ایسے خلا موجود ہیں دہشت گرد جن کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

یہ خیال کیا جاتا تھا کہ دہشت گردی کے خطرات خیبر پختونخوا اور بلوچستان تک محدود ہیں اور ہر دو صوبوں اور ملک کے دیگر حصوں میں ایسا آہنی پردہ ہے کہ دہشت گردی کے واقعات سے ملک کے دیگر حصے محفوظ ہیں‘ تاہم وفاقی دارالحکومت میں خودکش دھماکوں نے اس خیال کو غلط ثابت کیا ہے۔ دہشت گردی کے یہ واقعات سکیورٹی کے غیرمعمولی خطرے کو واضح کرتے ہیں‘ وہیں سکیورٹی انتظامات میں پائی جانیوالے کمزور کڑیوں کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے فتنہ الہندوستان ہوتا ہے‘ مگر اس اندیشے کو صرف بیان کر دینا کافی نہیں ‘ اس کے سدباب کے مؤثر اقدامات بھی ہونے چاہئیں۔ حالیہ کچھ عرصے میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے لے کروفاقی دارالحکومت تک دہشت گردی کے منحوس سائے قومی تشخص اور پاکستان کے معاشی امکانات کیلئے بھی بڑا خطرہ ہیں۔ دہشت گردی کی سازش کو سمجھنے کا ایک زاویہ یہ بھی ہے۔

دشمن پاکستان کے ابھرتے ہوئے عالمی تشخص اور معاشی ترقی کے مواقع کو گہنانے کیلئے دہشت گردانہ واقعات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس صورتحال کے سدباب کیلئے ملک میں سکیورٹی کے انتظامات کو بہتر بنانے اور دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا درجہ بڑھا نے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے امن وسلامتی کو لاحق خطرات قومی سطح پر یکجہتی اور ہم آہنگی کو تقویت دینے کی ضرورت کو بھی واضح کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف قوم کو یک زبان ہو گی تو قیام امن کی کارروائیوں کو بہتر طور پر انجام دینے میں مدد ملے گی۔ خیبر پختونخوا‘ بلوچستان اور اب اسلام آباد کی صورتحال دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں دقیقہ فروگزاشت کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ان اندوہناک واقعات کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہیں۔

اسلام آباد میں حالیہ دہشت گردانہ واقعے کے کچھ وقت بعد ہی یہ خبریں آناشروع ہو گئیں کہ دہشت گرد کی شناخت کر لی گئی ہے اور یہ کہ وہ کئی بار افغانستان کا سفر کر چکا تھا۔ اس سے قبل اسلام آباد کچہری کے حملہ آور کا سراغ لگانے میں بھی متعلقہ اداروں نے پیشہ ورانہ مہارت اور قابلیت کا ثبوت دیا اور حملے کے کچھ وقت بعد ہی اس نیٹ ورک کا پتا چلا لیا گیا۔ دہشت گردی کے کسی حملے کے بعد کسی نیٹ ورک کا سراغ لگا لینا اگرچہ اس لحاظ سے فائدہ مند ہے کہ ایسے نیٹ ورکس کو توڑ کر مزید خطرات سے بچا جا سکتا ہے تاہم سکیورٹی اداروں کی قابلیت اور مہارت کا امتحان یہ ہے کہ دہشتگردوں کے حملوںسے پہلے ان کی گردن دبوچ کر ملک اور عوام کو اُن کے شر سے بچایا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں