اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پولیو قطروں سے محروم

سالِ رواں کی پہلی انسدادِ پولیو مہم کے دوران تقریباً دس لاکھ بچے پولیو سے محروم رہے ہیں‘ جن میں سے پانچ لاکھ سے زائد کا تعلق کراچی سے ہے۔ ہر سال لاکھوں ورکرز کی محنت‘ اربوں روپے کے اخراجات اور باقاعدہ مہمات کے باوجود بھی اگر ملک پولیو فری نہیں ہو پا رہا تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ سو فیصد بچوں کو ویکسین نہیں پلائی جا رہی۔ دنیا میں اسوقت صرف پاکستان اور افغانستان میں پولیو وائرس موجود ہے‘ گزشتہ برس ملک بھر سے پولیو کے 31کیسز سامنے آئے جن میں سے 20 خیبرپختونخوا اور نو کیسز صوبہ سندھ سے رپورٹ ہوئے تھے۔ کچھ والدین لاعلمی یا افواہوں کا شکار ہیں تو کچھ جان بوجھ کر انکار کرتے ہیں جسکے باعث وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات برقرار رہتے ہیں۔

حکومت کو پولیو کے قطروں سے انکار کرنے والے والدین کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لانا ہو گی تاکہ اس رویے کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ ساتھ ہی مذہبی‘ سماجی اور سیاسی رہنماؤں کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ والدین کو سمجھایا جا سکے کہ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کیلئے پولیو کی ویکسی نیشن بہت ضروری ہیں۔ حکومت کو بھی محض انسدادِ پولیو مہمات کیلئے فنڈز مختص کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ بہتر نتائج کے حصول کیلئے ان مہمات کے معیار‘ رسائی اور تسلسل پر بھی بھرپور توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں