اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مصنوعی ذہانت کی ترجیحات

وزیراعظم شہباز شریف نے2030ء تک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری‘ اے آئی کے شعبے میں ایک ہزار پی ایچ ڈی وظائف اور دس لاکھ نان آئی ٹی پروفیشنلز کو اے آئی کی مہارتوں میں تربیت دینے کیلئے ملک گیر پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بلاشبہ کمپیوٹر سائنسز ترقی کا جزو لاینفک ہیں اور مصنوعی ذہانت اس کا وسیلہ۔ جدید دنیا میں ترقی کا پیمانہ علمی سرمایہ اور پیداواری صلاحیت ہے۔ وہ ممالک جنہوں نے اس راز کو چند دہائیاں پہلے پا لیا آج کی جدید دنیا اور مضبوط معیشتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس جانب توجہ دینے میں تاخیر ہوئی اور وہ بھی بے دلی کیساتھ۔ آئی ٹی کے شعبے کو دیکھیں تو ہماری سالانہ برآمدات ابھی بمشکل چار ارب ڈالر تک پہنچ پائی ہیں۔ تاہم اس میں نمو کی شرح تسلی بخش ہے اور رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں گزشتہ مالی سال کے اس دورانیے کی نسبت آئی ٹی کے شعبے کی برآمدات 20فیصد اضافے کیساتھ دو ارب بیس کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔

اگرچہ 25 کروڑ سے زائد آبادی کے اس ملک میں جہاں 60 فیصد سے زیادہ نوجوان آبادی ہے‘ آئی ٹی کی برآمدات کا یہ حجم کوئی بڑی بات نہیں۔ پاکستان میں اس شعبے کی نمو کی گنجائش کے مقابلے میں یہ حجم آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ اگرچہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے مگر آئی ٹی کے شعبے کی ترقی کی صلاحیتوں سے پورا فائدہ اٹھایا جائے تو اس شعبے کی برآمدات میں اضافے کی رفتار نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے اور ملکی برآمدات میں اس شعبے کا حصہ دیگر سبھی روایتی شعبوں سے بڑھ سکتا ہے۔ اس کیلئے جو عوامل ضروری ہیں ان میں جدید تعلیم وتربیت کا انفراسٹرکچر سرفہرست ہے۔ مختصر تربیتی پروگراموں سے نوجوانوں کی صلاحیت بڑھا کر انہیں ملازمت حاصل کرنے یا فری لانس پراجیکٹس سے کمانے کے قابل بنایا جا سکتا ہے تاہم آئی ٹی شعبے کی ترقی کے امکانات سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کیلئے اس شعبے سے متعلقہ نالج بیسڈ اکانومی تشکیل دینا ہو گی‘ جہاں یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے ریسرچ اور ڈویلپمنٹ میں مصروف ہوں‘ انڈسٹری اس تحقیق اور ڈویلپمنٹ سے منسلک ہو کر کام کر رہی ہو اور نوجوان نسل چند ڈالرز کی ملازمت کے مقابلوں پر اکتفا کرنے کے بجائے علم‘ تحقیق اور ترقی کے اس دھارے میں بہنا سیکھیں۔

ووکیشنل ٹریننگ کے نظام کو بھی جدید رجحانات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی نوجوان جدید رجحانات کے مطابق تربیت پائیں‘ جس سے بیروزگاری میں کمی آئے۔ ابھی تک ایسا نظر نہیں آتا اور آئی ٹی کے مختلف کورسز کرنے کے باوجود اکثر نوجوان مناسب ذرائع آمدنی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں‘ اس لیے کہ ان کی مہارت عملی‘ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور وقت کی ضرورتوں کے مطابق نہیں ہوتی۔ ملکی سطح پر آئی ٹی کی مضبوط بنیاد نہ صرف برآمدی معیشت کو ترقی دے گی بلکہ ملکی سطح پر ان مصنوعات سے فائدہ اٹھانے اور نجی وسرکاری شعبوں میں نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مدد ملے گی۔ ڈیجیٹل نظام شفافیت اور بہتر کارکردگی یقینی بنانے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ اسکا اندازہ ان سبھی شعبوں میں کیا جا سکتا ہے جہاں روایتی نظام کی جگہ ڈیجیٹل نظام نے لی ہے۔ اصلاح کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے مگر ڈیجیٹل شعبے کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔

اے آئی کے امکانات سے فائدہ اٹھانے کیلئے جس قسم کا علمی ڈھانچہ درکار ہے وہ سرمایہ کاری کے بغیر ممکن نہیں۔ یہاں حکومت کو آگے آنے کی ضرورت ہے تا کہ حکومتی سرپرستی میں شروع کیے گئے منصوبے نجی شعبے کے لیے بھی تحریک کا سبب بنیں۔ ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان‘ اگر حقیقت میں ڈھل سکے تو آئی ٹی کے شعبے میں تحقیق اور ترقی کے لیے قابل ذکر اقدامات ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ جدید دنیا کے مقابلے میں یہ اخراجات بھی آٹے میں نمک کے برابر نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں