اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

غربت میں اضافہ

حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سات سال میں ملک میں غربت کی شرح 21.9فیصد سے بڑھ کر 28.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ وفاقی وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پنجاب میں غربت کی شرح 23 فیصد‘ سندھ میں 32 فیصد‘ خیبرپختونخوا میں 35 فیصد جبکہ بلوچستان میں یہ شرح 47 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے‘ غیر مستحکم معاشی پالیسیوں‘ کرنسی کی قدر میں کمی اور مہنگائی کی طوفانی لہر نے معیشت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ صنعتی شعبہ‘ جو روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے‘ لاگت بڑھنے اور پالیسی عدم تسلسل کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔

زراعت بھی بڑھتی ہوئی لاگت اور موسمی تغیرات کے باعث غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہے جس سے دیہی غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔ غریب طبقات کیلئے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ غربت کے خاتمے کیلئے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دے جس میں صنعتی و زرعی شعبوں میں ہدفی سرمایہ کاری‘ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سہارا اور برآمدات میں اضافے کیلئے واضح روڈ میپ شامل ہو۔ایک مستحکم‘ مربوط اور طویل مدتی معاشی حکمت عملی ہی عوام کوخط غربت سے نکال سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں