رمضان اور منہ زور مہنگائی
مہنگائی ملک عزیز کا دیرینہ مسئلہ ہے لیکن رمضان المبارک میں ہر سال اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو پَر لگ جاتے ہیں۔اگر گزشتہ ہفتے سے قیمتوں کا موازنہ کیا جائے تو رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی پھلوں‘ سبزیوں‘ دالوں اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ ایک ہفتے کے دوران کیلے 16فیصد مہنگے ہوئے جبکہ سیب‘ امرود‘ کینو اور دیگر پھل بھی سرکاری قیمتوں سے کہیں زیادہ میں فروخت ہوئے۔ رمضان کے پہلے روز مرغی کے گوشت کا سرکاری ریٹ 497 روپے مقرر تھا لیکن یہ مختلف مارکیٹوں میں 600روپے سے زائد میں فروخت ہوا۔ اسی طرح ٹماٹر کے نرخ چار فیصد‘ پیاز چار فیصد اور ادرک کے نرخ چھ فیصد بڑھ گئے ہیں۔ چیک اینڈ بیلنس کا مناسب نظام نہ ہونے کی وجہ سے صارفین کو کوئی چیز سرکاری نرخوں پر دستیاب نہیں۔

ماہِ رمضان کی آمد سے قبل ہی ناجائز منافع خوری کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے مگر تمام تر دعوؤں اور وعدوں کے باوجود حکومت بازاری مافیا کو لگام ڈالنے میں ناکام رہی ہے۔ یہ صورتحال حکومت کے لیے چشم کشا ہونی چاہیے۔ محض بیانات اور دکھاوے کے اقدامات تک محدود رہنے کے بجائے حکومت کو پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے ذریعے منافع خور عناصر کو لگام ڈالنی چاہیے۔ ضروری ہے کہ حکومت مہنگائی کے تدارک کیلئے مارکیٹ میکانزم کو ریگولیٹ کرنے کی جامع اور مؤثر حکمت عملی تشکیل دے تاکہ سرکاری نرخوں کی پابندی یقینی بنا کر عوام کوریلیف فراہم کیا جا سکے۔