اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بورڈ آف پیس، امکانات اور تحفظات

موجودہ عالمی منظرنامے میں جب مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے‘ واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کا افتتاحی اجلاس اور اس میں پاکستان کی شرکت ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تشکیل دیے گئے اس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت اور وہاں ملنے والی پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے پاکستان کلیدی کردارادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ فلسطینیوں کی آزاد اور خود مختار ریاست کا قیام پاکستان کا تاریخی اور قومی مؤقف ہے ۔ اب اس نئے پلیٹ فارم پر پاکستان کی موجودگی جہاں پاکستان کی اہمیت کو آشکار کرتی ہے وہیں پاکستان کے ساتھ وابستہ توقعات اور ذمہ داریوں میں بھی بڑی حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ا س کے لیے پاکستان کو بورڈ آف پیس کے فورم پر دیگر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فلسطینیوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

بورڈ آف پیس میں سعودی عرب‘ ترکیہ‘ قطر‘ انڈونیشیا اور مصر جیسے بااثر ممالک کی موجودگی یہ امکان پیدا کرتی ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس فورم پرفلسطینیوں کے حق کوپامالی سے بچایا جائے گا۔ تاہم کچھ واقعات تشویشناک ہیں۔ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیل دریائے اردن کے مغربی کنارے کے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کی کارروائیوں اور ان علاقوں میں یہودی آبادکاروں کو بسانے میں شدت آ چکی ہے ۔رواں ہفتے کے شروع میں اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے کے بڑے علاقوں کو اسرائیلی ’’ریاستی ملکیت‘‘ میں لینے کے منصوبے کی منظوری دی۔ اسرائیلی حکومت کے اس اقدام کی بین الاقوامی سطح پر بھر پور مذمت کی گئی اور اقوام متحدہ کے 80 سے زائد رکن ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیل کے کنٹرول کو بڑھانے اور فلسطینی علاقے کے بڑے حصوں پر قبضے پر سخت تنقید کی۔

اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقے پر قبضے کی یہ سنگین واردات فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کو مجروح کرنے اور مؤثر طور پر فلسطینی ریاست کے کسی بھی امکان کو ختم کرنے کی دیدہ و دانستہ کوشش ہے۔ بورڈ آف پیس کو اسم بامسمیٰ بنانے کیلئے انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا اور انصاف کی کم از کم صورت یہ ہو سکتی ہے کہ فلسطینیوں کی ریاست کا حق بلاتاخیر تسلیم کیا جائے اور اسے عملی جامہ پہنایا جائے۔ کسی بھی ایسے امن منصوبے کو قبول کرنا جو فلسطینیوں کی خود مختاری اور 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی آزاد ریاست کے تصور سے منافی ہو اہل فلسطین کے ساتھ سنگین ناانصافی ہو گی ۔اور یہ داغ عالمی ضمیر بالخصوص بورڈ آف پیس کے مسلم اراکین کیلئے عمر بھر کا روگ بن جائے گا۔

بورڈ آف پیس کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ فلسطینیوں کی آزاد ریاست‘ معاشی بحالی‘ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور ان کے سیاسی حقوق کی ضمانت وہ بنیادی نکات ہیں جن پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کی یہ اولین ذمہ داری ہو گی کہ وہ امن بورڈ کے اندر رہتے ہوئے اسرائیل کی توسیع پسندانہ سرگرمیوں کی روک تھام یقینی بنانے کیلئے کردار ادا کریں۔ بورڈ آف پیس کے مسلم رکن ممالک کو اپنے کردار سے ثابت کرنا ہو گا کہ اس فورم پر ان کی موجودگی فلسطین میں پائیدار امن ‘آزادفلسطینی ریاست کا قیام جس کا بنیادی تقاضا ہے ‘ کی تکمیل میں فیصلہ کن ثابت ہو۔ اگر پاکستان اور دیگر مسلم ممالک اس پلیٹ فارم کو دانشمندی سے استعمال کریں تو یقینا وہ اسرائیلی لابی کے اس حصار کو توڑ سکتے ہیں جس نے دہائیوں سے عالمی قوانین کو محبوس بنا رکھا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ بورڈ آف پیس کو ایسی تاریخی حقیقت میں ڈھالا جائے جو مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کر سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں