گیس چوری
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ ملک میں ہر سال تقریباً 60 ارب روپے کی گیس چوری ہوتی ہے۔ گیس اور بجلی کی چوری توانائی کے شعبے کیلئے ناقابلِ برداشت مالی بوجھ ہے۔ چوری‘ بلوں کی عدم ادائیگی اور لائن لاسز توانائی کے گردشی قرضوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں‘ اور اس وقت گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ 3280 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ صنعتی شعبے میں ضابطوں کی خلاف ورزی‘ ناقص میٹرنگ اور غیر قانونی کنکشن اس چوری کے اہم اسباب ہیں جبکہ نگرانی کی کمی اور سسٹم کی غیر شفافیت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حکومت گیس چوری‘ لائن لاسز اور گردشی قرضوں پر قابو پانے کیلئے توانائی کی قیمتوں میں آئے روز بھاری اضافے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

پچھلے چند برسوں میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے جس سے عام آدمی کی معیشت پر بھاری دباؤ پڑا ہے۔ اس کے باوجود توانائی کی چوری اور ہیرا پھیری جاری ہے۔ حکومت کیلئے ضروری ہے کہ وہ گیس چوری کے خلاف مؤثر اقدامات کرے۔ اس کیلئے مضبوط نگرانی اور شفاف میٹرنگ ناگزیر ہے۔ یہ قدم نہ صرف توانائی کے شعبے کے مالی مسائل کو کم کرے گا بلکہ عام صارفین پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو بھی ختم کرے گا۔