اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی کا سلسلہ

بنوں میں گزشتہ روز فتنہ الخوارج کا حملہ جس میں پاک فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی شہید ہوئے‘ دہشت گردی کے اسی سلسلے کی کڑی ہے جو افغانستان سے ملتا ہے۔ ملکِ عزیز میں دہشت گردی کے واقعات معمول بن چکے ہیں اور ان میں سے ہر ایک واقعے کے ڈانڈے افغانستان سے ملتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال غیر معمولی تشویش کاموجب ہے۔پاکستان اس ہمسایہ ملک کے ساتھ خلوص پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کا خواہش مند رہا ہے مگر اس کا مثبت جواب نہیں آیا۔ جب افغانستان میں امریکی قیادت میں مغربی افواج مسلط تھیں تب بھی ہمارے اس مغربی ہمسائے کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی ‘اور غیر ملکی افواج کے چلے جانے کے بعد جب بظاہر اقتدار افغانوں کے اپنے ہاتھوں میں آیا تو بھی صورتحال بدستور وہی بلکہ پہلے سے بدتر ہے۔طالبان کی عبوری حکومت کے قیام کے بعد دہشت گردی کے واقعات پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر چکے ہیں ۔

پچھلے برسوں میں مسلح افواج کی کوششوں سے پاک افغان سرحد پر قبائلی پٹی کو انتہا پسندوں سے صاف کر دیا گیا تھا مگر طالبان رجیم کی واپسی کے بعد دہشت گردوں کے اڈے سرحد پار فعال ہو چکے ہیں اور دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کی قومی سلامتی اور بقا کا سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔دہشت گردی کے واقعات سالانہ دہرے ہندسے کی شرح سے بڑھتے جارہے ہیں۔تقریباً روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی کے واقعات سے ملکی اور عالمی سطح پر یہ تاثر جاتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہا۔ معیشت اور قومی سلامتی کا بڑا گہرا تعلق ہے ؛چنانچہ بد امنی کا ایسا ماحول جس میں آئے روز دہشت گردی کے واقعات ہوں ملک کے مثبت تشخص کو قائم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کا سبب بنتا ہے۔

افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلق کے کئی حوالے ہیں اس لیے اتمام حجت کے طور پر ایک آخری کوشش کرنی چاہیے ورنہ پاکستا ن کو اپنی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے خلاف کارروائی کا اختیار اقوام متحدہ کا چارٹر بھی دیتا ہے جس کا آرٹیکل 51 یہ کہتا ہے کہ اگر اقوام متحدہ کے کسی رکن پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اس چارٹر میں کوئی بھی چیز‘ انفرادی یا اجتماعی‘ دفاع کے اس بنیادی حق کوختم نہیں کرے گی۔ افغانستان کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیزی‘ بارہا شکایات اور تنبیہات کے باوجود دہشت گردی کا سلسلہ اور افغان رجیم کی اس اندوہناک صورتحال پر کسی قسم کی شرمندی یا افسوس کے اظہار کے بجائے دہشت گردی کے واقعات پر غیر سنجیدہ بیان بازی مزید مایوس کن ہے۔طالبان رجیم اگر ذمہ داری کا ثبوت دیتا تو افغانستان ‘جو ایک بار پھر عالمی دہشت گرد گروہو ں کا اڈہ بن چکا ہے ‘کے داخلی حالات کہیں مختلف ہوسکتے تھے اور یہ ملک اس خطے کے دیگر ممالک کے لیے جس طرح سکیورٹی رسک بن چکا ہے‘ اس کے بجائے یہ ایک تجارتی شراکت دار بن سکتا تھا اور شمالاً جنوباً راہداری سے افغان سرزمین کی اہمیت ابھر کر سامنے آسکتی تھی۔

پاکستان کی یہی خواہش اورتوقع تھی مگر جو ہوا وہ اس کے برعکس ہے۔ افغانستان آج پاکستان کے لیے سلامتی کا خطرہ اور پاکستا ن دشمنوں کا آلہ کار بن چکا ہے۔ آئے روز دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں اور ان میں سے ہر ایک واقعے کا سرا افغانستا ن میں ملتا ہے۔اس صورتحال کو آخر کب تک برداشت کیا جاسکتا ہے؟ پاکستان کی داخلی اور عالمی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس معاملے کے سنگین پہلوؤں سے دنیا کو خبردار کیا جائے۔خطے کے ممالک کو بھی اس حوالے سے آگاہ کرنا ضروری ہے تا کہ پاکستان جن خطرات کو جھیل رہا ہے دیگر ممالک بھی اس خطرے کی نوعیت سے آگاہ ہوں اور دہشت گردی کے خلاف عالمی مؤقف تشکیل دیا جاسکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں