اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سرمایہ کاری میں کمی

سٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری سالانہ بنیادوں پر 41فیصد کم ہو کر 98کروڑ 10لاکھ ڈالر رہ گئی ہے‘ جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ حجم ایک ارب 66کروڑ ڈالر تھا۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ سرمایہ کاری میں کمی کے ساتھ ساتھ منافع کی بیرونِ ملک منتقلی میں 26فیصد اضافہ بھی ہوا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں ایک ارب 67کروڑ ڈالر سے زائد رقم منافع کی صورت میں بیرونِ ملک لے جائی جا چکی ہے۔ یہ دہرا دباؤ بیرونی کھاتے پر بوجھ بڑھا رہا ہے۔ ملک میں مجموعی سرمایہ کاری کا جی ڈی پی تناسب مسلسل کم ہو رہا ہے۔ مالی سال 2022ء میں یہ شرح 15.6فیصد تھی جو اَب کم ہو کر 13.1فیصد تک آ گئی ہے۔سرمایہ کاری میں مسلسل کمی حکومتی کارکردگی اور معاشی پالیسیوں پر سوالیہ نشان ہے۔

حکومت میکرو اکنامک استحکام کی بات تو کرتی ہے لیکن اگر یہ استحکام مؤثر ہے تو سرمایہ کاری میں مسلسل کمی کیوں ہو رہی۔ سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے معاشی پالیسیوں کا تسلسل‘ طویل مدتی ٹیکس اصلاحات‘ ٹیکسوں اور ودہولڈنگ لیویز میں کمی‘ برآمدی صنعت کیلئے مسابقتی اور سستی توانائی‘ ریگولیٹری منظوریوں کا سادہ اور یکساں نظام اور قانونی تحفظ کی ضمانت ناگزیر ہے۔ مزید یہ کہ حکومت کو سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے محض روایتی شعبوں تک محدود رہنے کے بجائے ٹیکنالوجی‘ قابلِ تجدید توانائی اور برآمدی صنعت کو ترجیح دینا ہو گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں