برآمدات میں کمی
سٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران میں نان ٹیکسٹائل برآمدات سالانہ بنیادوں پر 17فیصد کمی کے بعد سات ارب 28کروڑ ڈالرتک محدود رہیں جبکہ گزشتہ برس ان کا حجم آٹھ ارب 81 کروڑ ڈالر تھا۔ اعدادوشمار کے مطابق سب سے شدید دھچکا زرعی برآمدات کو لگا۔ اس مدت میں چاول کی برآمدات 40 فیصد کمی کے ساتھ ایک ارب 30کروڑ ڈالر رہیں۔ خام لیدر کی برآمدات میں تقریباً پانچ فیصد‘ جوتوں کی برآمدات میں 52 فیصدکمی آئی۔ آلاتِ جراحی کی برآمدات‘ جن میں پاکستان عالمی سطح پر اہم سپلائر سمجھا جاتا ہے‘ میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ ہوئی۔

برآمدات میں کمی کی وجوہات میں زرعی پیداوار میں عدم استحکام‘ عالمی منڈی میں کمزور طلب اور قیمتوں کا دباؤ‘ ویلیو ایڈیشن کی کمی‘ برانڈنگ و مارکیٹنگ میں کمزوری اور مہنگی توانائی کی وجہ سے بلند لاگت شامل ہیں۔ حکومت کو تمام برآمدی شعبوں کو عالمی مارکیٹ سے ہم آہنگ کرنے کیلئے جامع حکمتِ عملی تشکیل دینی چاہیے۔ زرعی شعبے میں اعلیٰ معیار کے بیج‘ لاگت کم کرنے کیلئے سستی توانائی اور سستے زرعی مداخل کی فراہمی‘ویلیو ایڈیشن اور برآمدی منڈیوں کا تنوع برآمدات میں پائیدار اضافہ کر سکتا ہے۔ برآمدات کا حجم بڑھائے بغیر معیشت کو استحکام کی راہ پر ڈالنا ممکن نہیں‘ اسلئے حکومت کو برآمدی حکمتِ عملی ازسرِنو استوار کرنا ہو گی۔