علاقائی و عالمی خطرہ
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا یہ بیان کہ طالبان نائن الیون سے بھی بڑا خطرہ بن چکے ہیں خطے کی بدلتی صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ افغانستان میں طالبان رجیم کی واپسی کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں جو اضافہ ہوا اس نے واضح کر دیا کہ دہشت گردی قومی سلامتی کیلئے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ایسے میں شہریوں کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے دوٹوک پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ افغانستان کی جانب سے مسلسل حملوں کے باوجود پاکستان نے محتاط اور ذمہ دارانہ ردِعمل کا مظاہرہ کیا۔ یہ طرزِ عمل واضح کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کا پھیلاؤ نہیں چاہتا مگر تحمل اور کمزوری میں فرق کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر ریاستی خود مختاری اور عوام کے جان ومال کو خطرات لاحق رہیں تو محدود اور ہدفی کارروائیاں ناگزیر ہو جاتی ہیں۔

افغانستان میں حالیہ کارروائیوں میں بھی یہی ترجیحات نظر آتی ہیں۔ ان کارروائیوں میں دہشت گرد عناصر کی ہلاکت اس حقیقت کی غماز ہے کہ خطرہ حقیقی‘ منظم اور سرحد پار موجود ٹھکانوں سے جڑا ہوا ہے۔ طالبان کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات کے حوالے سے صدر زرداری کے مؤقف کا وزن اس لیے بھی بڑھ جاتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر متعدد ادارے ان خدشات کی تائید کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ اور امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹس میں یہ نشاندہی کی جا چکی ہے کہ طالبان رجیم علاقائی دہشت گرد گروہوں کی سہولت کاری میں ملوث ہے اور ایسے عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔ افغانستان میں پیدا ہونے والے علاقائی اور عالمی خطرات پاکستان سمیت پورے خطے کے امن کیلئے خطرہ ہیں۔ طالبان کی عبوری حکومت کے قیام کے بعد افغانستان سے شدت پسند گروہوں کی نقل وحرکت میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ مسئلہ اس لیے زیادہ حساس ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے مابین طویل‘ دشوار گزار اور مکمل طور پر محفوظ نہ ہونے والی سرحد موجود ہے۔
جب دہشت گرد عناصر سرحدی علاقوں کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو داخلی سلامتی کے چیلنجز مزید شدت اختیار کر جاتے ہیں۔ افغانستان میں دہشت گرد عناصر کے ٹھکانوں پر پاکستان کی ٹارگٹڈ کارروائیوں کا مقصد کشیدگی بڑھانا نہیں بلکہ واضح پیغام دینا ہے کہ ریاست اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گی۔ اسلام آباد کی جانب سے بارہا یہ مؤقف دہرایا گیا ہے کہ وہ خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور اس غرض سے طالبان کی عبوری حکومت کے ساتھ اعلیٰ سرکاری سطح پر مسلسل کوششیں جاری رہیں‘ بدقسمتی سے جن کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا اور کابل میں موجود عبوری حکومت کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف سنجیدہ‘ عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ پورا نہیں ہو سکا۔ افغانستان سے ابھرنے والا خطرہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ٹھوس کارروائی‘ سرحدی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ جیسے اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔
اگر افغان سرزمین کو دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے سے روکا جائے تو اس کے فوائد صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے‘ پورا خطہ اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جنوبی اور وسطی ایشیا میں تجارتی راہداریوں کیلئے افغانستان کی ایک اہمیت ہے مگر لاقانونیت اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ علاقائی اور عالمی سطح پر اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ورنہ افغانستان جس راستے پر ہے بعید نہیں کہ دنیا کو ایک بار پھر اس ملک سے ابھرنے والی دہشت گردی کے مضمرات کو بھگتنا پڑے۔ پائیدار عالمی اور علاقائی امن اسی صورت ممکن ہے جب دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو عملی جامہ پہنایا جائے اور افغانستان میں موجود خطرات کا بروقت اور مؤثر سدباب کیا جائے۔