موسمیاتی بحران
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث شمالی علاقہ جات بشمول گلگت اور آزاد کشمیر میں گلیشیرز کے پگھلنے اور ممکنہ گلیشیائی سیلاب (GLOF) کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق فروری میں شمالی پاکستان میں درجہ حرارت معمول سے پانچ ڈگری تک زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر جیسے علاقوں میں درجہ حرارت کا پانچ ڈگری تک بڑھ جانا معمولی بات نہیں بلکہ یہ عندیہ ہے کہ رواں برس بھی ہمیں شدید موسمیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ گزشتہ برس بھی گلگت بلتستان میں گلیشیائی سیلابوں کے باعث خاصا جانی و مالی نقصان ہوا تھا۔اگر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے اب بھی فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں ہماری معیشت‘ زراعت اور توانائی کے ذرائع سب کچھ موسمیاتی تباہ کاریوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔

گلیشیائی سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کیلئے حکومت کو چاہیے کہ وہ ممکنہ طور پر متاثرہ علاقوں میں پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جیسے کہ پانی کے بہاؤ کی نگرانی‘ ریسکیو خدمات اور مقامی کمیونٹی کی تربیت۔ ساتھ ہی طویل مدتی حکمت عملی کے تحت پانی کے ذخائر کا مناسب انتظام‘ گلیشیرز کے پگھلاؤ کی نگرانی کے نظام کی مضبوطی اور موسمیاتی تبدیلی کے تدارک کے اقدامات کو ترجیح دینی چاہیے۔ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ محض شمالی علاقوں سے نہیں بلکہ پورے ملک کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے‘ اس لیے اس ضمن میں وقت ضائع کیے بغیر سنجیدہ اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔