اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

رمضان میں منافع خوری

رمضان المبارک کو شروع ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا ہے لیکن حکومت کے مہنگائی پر قابو پانے اور سرکاری نرخوں پر اشیائے خورونوش کی دستیابی یقینی بنانے کے اعلانات کے باوجود بازاروں میں منافع خوری بدستور جاری ہے۔ سرکاری ریٹ لسٹ محض کاغذی کارروائی بن کر رہ گئی ہے اور شہری عملاً منڈی کے رحم و کرم پر ہیں۔ خبروں کے مطابق پیر کے روز لاہور کی مارکیٹوں میں پیاز 53روپے فی کلو کی سرکاری قیمت کے بجائے 80روپے تک‘ ٹماٹر 55روپے کے بجائے 100روپے تک‘ لہسن 530 کے بجائے 650روپے‘ ادرک 290کے بجائے 430روپے اور لیموں چائنہ 65 کے بجائے 140روپے میں فروخت ہوئے۔ دیگر سبزیوں اور پھلوں کی صورتحال بھی مختلف نہیں۔

قیمتوں میں یہ فرق کسی ایک شہر کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ملک بھر میں یہ منظم منافع خوری جاری ہے۔ رمضان المبارک میں طلب میں فطری اضافہ ہوتا ہے‘ جس سے فائدہ اٹھا کر مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے۔ پرائس کنٹرول کے روایتی اور نمائشی اقدامات اس پیچیدہ مسئلے کا حل نہیں۔ ضروری ہے کہ حکومت منافع خوری کے تدارک کیلئے ایک جامع اور پائیدار حکمت عملی اختیار کرے۔ حکومت کو رسد کے نظام کو مستحکم کرنے، منافع خور مافیا کے گٹھ جوڑ کو توڑنے اور پرائس کنٹرول کو حقیقی معنوں میں نافذ کرنے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ عوام کو ریلیف میسرآ سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں