سٹاک مارکیٹ مندی
حالیہ دنوں ملکی سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان ہے اور سرمایہ کار غیریقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ گزشتہ روز پاکستان سٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک کے ایس سی ہنڈرڈ انڈیکس 1432پوائنٹس کی کمی سے 166,258 پوائنٹس پر بند ہوا۔ یکم فروری کو ہنڈرڈ انڈیکس 184,441پوائنٹس کی سطح پر تھا‘ مگر چوبیس روز میں اس کے حصص میں تقریباً دس فیصد کمی آ چکی ہے۔ سٹاک مارکیٹ مستقبل کی توقعات کا بیرومیٹر ہوتی ہے‘ اس میں مسلسل مندی سرمایہ کاروں کے معاشی پالیسیوں پر عدم اعتماد کی غماز ہے۔ عدم اعتماد کی یہ صورتحال بیرونی سرمایہ کاری کے میدان میں بھی درپیش ہے جس میں گزشتہ سات ماہ کے دوران تقریباً 41فیصد کمی ہوئی ہے۔ برآمدات بھی سست روی کا شکار ہیں۔ وقتی اور نمائشی اقدامات معیشت کو لمحاتی سہارا تو دے سکتے ہیں مگر پائیدار استحکام فراہم نہیں کرسکتے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت طویل مدتی اور شفاف معاشی پالیسیوں کا روڈ میپ تشکیل دے جس میں ٹیکس بیس کی توسیع‘ برآمدات پر مبنی نمو‘ توانائی سیکٹر اصلاحات‘ نجکاری و گورننس کی بہتری اور سرمایہ کاروں کے لیے ریگولیٹری استحکام جیسے اقدامات شامل ہوں۔ پالیسی تسلسل اور ادارہ جاتی ہم آہنگی سے ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ اگر فوری‘ سنجیدہ اور ساختی اصلاحات نہ کی گئیں تو سٹاک مارکیٹ میں مندی مجموعی معاشی صورتحال پر بھی منفی اثرات مرتب کرے گی۔