سیاسی مفاہمت قومی استحکام کا تقاضا
پاکستان کے موجودہ سیاسی و معاشی تناظر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات محض ایک سیاسی ضرورت ہی نہیں قومی استحکام کا تقاضا ہیں۔ معاشی بدحالی‘ دہشت گردی اور ملک کی سرحدوں پر بڑھتا ہوا تنائو متقاضی ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت اپنی توانائیاں بے مقصد لڑائی میں صرف کرنے کے بجائے ملک و قوم کے مفاد کیلئے یکجا ہو۔ ان حالات میں تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان‘ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کے حالیہ بیانات سیاسی جمود توڑنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھاکہ سیاسی اختلاف کو نفرت میں نہیں بدلنا چاہیے جبکہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی جانب سے رمضان المبارک کی مناسبت سے سیاست میں صبر‘ برداشت اور مفاہمت کا درس اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ پاکستان کے پیچیدہ مسائل کا حل محض بامقصد مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔

رانا ثناء اللہ بھی سیاسی ڈیڈلاک ختم کرنے کیلئے مذاکرات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ سیاست میں اختلافِ رائے کو جمہوریت کا حسن سمجھا جاتا ہے لیکن جب یہ اختلاف ذاتی دشمنی اور انتقام میں بدل جائے تو ریاست کے ستون کمزور ہونے لگتے ہیں۔ پاکستان کو اس وقت ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن میں مذاکراتی عمل گزشتہ ایک سال سے معطل ہے۔ اس دوران اگر کسی ایک جانب سے مذاکرات کی ضرورت کا اظہار کیا بھی گیا تو معاملہ مذاکراتی میز تک نہیں پہنچ سکا۔ اگرچہ طرفین میں موجود سنجیدہ حلقے مذاکرات کا سلسلہ جوڑنے کی کوشش کرتے رہے مگر یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ درحقیقت سیاسی جماعتوں کے درمیان پایا جانیوالا عدمِ اعتمادان کے مل کر بیٹھنے اور مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مذاکرات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ فریقین کی جانب سے ایسے مطالبات پیش کر دیے جاتے ہیں جنہیں فوری پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
اس کیلئے بہتر ہو گا کہ پہلے بات چیت کا ماحول بنایا جائے‘ متنازع امور اور انکی حدود و قیود کا تعین کیا جائے اور پھر بتدریج مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے۔ یہ معاملہ کچھ لو‘ کچھ دو کے ذریعے ہی انجام پذیر ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے یا فریق مخالف کی کسی بات کو تسلیم کرنے کو شکست سے تعبیر کرنے کی ذہنیت ترک کرنا ہو گی۔ سیاسی رہنمائوں کی انا یا ساکھ ملکی مفاد پر غالب نہیں آنی چاہیے۔ سیاسی تناؤ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے اور یہ صورتحال سماجی تلخی میں ڈھلتی جا رہی ہے۔ ایسے میں رانا ثناء اللہ اور اپوزیشن لیڈر کی یہ تجویز کہ سیاسی قوتوں کو ایک میز پر بیٹھ کر بات کرنی چاہیے‘ اس لیے بھی اہم ہے کہ مسائل کا حل اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ تمام سٹیک ہولڈرز بشمول حکومت‘ اپوزیشن اور مقتدر حلقے گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی طرف بڑھیں جس کا ایجنڈا صرف اور صرف ملک کا استحکام ہو۔ دہشت گردی کا سنگین چیلنج اور مسلسل بڑھتا سرحدی تنائو کسی ایک جماعت یا ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی بقا کا معاملہ ہے۔
ملکی حالات متقاضی ہیں کہ تمام سیاسی قوتیں اپنے اختلافات پسِ پشت ڈال کر ایک متفقہ قومی بیانیہ تشکیل دیں۔ دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ تبھی جیتی جا سکتی ہے جب پوری قوم اور سیاسی قیادت ایک پیج پر ہو۔ معاشی استحکام کا خواب بھی سیاسی استحکام کے بغیر ادھورا ہے۔ جب تک سرمایہ کاروں کو یہ یقین نہ ہو کہ پالیسیوں کا تسلسل رہے گا اور سیاسی ماحول کاروبار کی راہ میں مزاحم نہیں ہو گا‘ تب تک معیشت کا پہیہ اپنی پوری رفتار سے نہیں چل سکتا۔ محمود اچکزئی کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ رمضان کا مقدس مہینہ ہمیں مفاہمت کا موقع دیتا ہے‘ یہ وقت اناؤں کی قربانی دینے اور ملک کی خاطر لچک دکھانے کا ہے۔ اپوزیشن رہنما کے اس بیان کو سیاسی بیان بازی کے طور پر نہیں بلکہ ایک روڈ میپ کے طور پر دیکھنا چاہیے جس پر چل کر ملک کو موجودہ بحرانوں کی دلدل سے نکالا جا سکتا ہے۔