اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

جامعات میں خالی نشستیں

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایک حالیہ مراسلے میں یہ انکشاف کہ ملک کی اعلیٰ درسگاہوں میں اساتذہ اور انتظامی عملے کی تقریباً چالیس فیصد نشستیں خالی پڑی ہیں‘ سرکاری جامعات میں انتظامی اور تعلیمی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ محض خالی نشستوں کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کا براہِ راست اثر ان لاکھوں طلبہ پر پڑتا ہے جو سنہری مستقبل کی امیدیں لے کر ان اداروں میں داخلہ لیتے ہیں۔ اگر جامعات کو اساتذہ کی اتنی بڑی تعداد میں کمی کا سامنا ہو تو یہ محال ہو جاتا ہے کہ وہاں تدریسی عمل تسلسل کے ساتھ ہموار انداز میں آگے بڑھ سکے۔

دستیاب اساتذہ پر اضافی کلاسوں کا بوجھ ڈالنا ان کی تدریسی صلاحیتوں کو ماند کرنے کے مترادف ہے‘ ایسے میں اکثر اساتذہ طلبہ کی فکری نشوونما پر توجہ دینے کے بجائے محض کورس مکمل کرانے تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔ نتیجتاً طلبہ میں وہ تخلیقی صلاحیتیں اجاگر نہیں ہو پاتیں جو ایک عالمی معیار کی جامعہ کا خاصہ ہونی چاہئیں۔ عارضی اور ایڈہاک بھرتیوں نے ہمارے نظام تعلیم کا جو حال کیا ہے‘ وہ جامعات کی عالمی رینکنگ سے واضح ہے۔ پاکستان کی صرف ایک یونیورسٹی دنیا کی ٹاپ پانچ سو یونیورسٹیوں میں شامل ہے۔ ضروری ہے کہ اب محض خالی نشستوں کو ہی پُر نہ کیا جائے بلکہ تعلیمی ڈھانچے کی بھی مرمت کی جائے تاکہ ملک کے نوجوانوں کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں