اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

رہبر اعلیٰ کی شہادت اور مضمرات

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت صرف ایران اور مشرق وسطیٰ کے لیے نہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ یہ ایک ایساسانحہ ہے جو تادیر یاد رکھا جائے گا اور خطے کی سیاست پر اس کے گہرے اثرات ہوں گے۔ فوری اثرات خطے کے ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے میزائل حملوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں‘ مگر ایسے واقعات قوموں کے حافظے کا حصہ بن جاتے اور آتشِ انتقام کا محرک بنتے ہیں؛ چنانچہ یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اب پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ خلیجی خطہ جو اپنے امن وامان کی خصوصیت سے دنیا میں جانا پہچانا جاتا تھا ایک ایسی صورتحال میں گِھر چکا ہے جس کے اثرات ترقی کے اُس ماڈل کے لیے قطعی طور پر موافق نہیں‘ گلف کی سلطنتیں جس پر استوار ہوئی ہیں۔ دنیا میں توانائی کا ایک بڑا حصہ آج بھی اسی خطے سے حاصل کیا جاتا ہے مگر نئے پیدا شدہ خطرات نے توانائی کی راہداری کے لیے بھی اندیشے پیدا کر دیے ہیں۔

سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ چالیس کلومیٹر چوڑی یہ اہم بحری گزرگاہ ایران کی جغرافیائی دسترس میں ہے مگر ایران کی جانب سے اس بین الاقوامی راستے کی بندش کے انتہائی اقدام کی نوبت اس سے پہلے کبھی نہیں آئی۔ آبنائے ہرمز کی بندش کا سلسلہ کتنا طول کھینچتا ہے عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں کا انحصار اس پر ہو گا۔ دوسری جانب خطے میں امریکی اڈوں کی سکیورٹی کے خدشات کا درجہ اب پہلے سے خاصا بڑھ جائے گا۔ امریکہ اور ایران میں کشیدگی کوئی نئی بات نہیں مگر اس سے پہلے فریقین کبھی اس حد تک نہیں گئے‘ تاہم آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کر کے امریکہ اور اسرائیل نے وہ سرخ لکیر عبور کی ہے جس کی شدت ایرانی معاشرے پر گہرا اثر رکھتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران میں مداخلت اور حکومت تبدیل کرنے کی سازشیں بھی ظاہر وباہر ہیں‘ ممکنہ طور پر اعلیٰ قیادت کو شہید کرنے کا مقصد بھی حکومت کو مفلوج کر کے ملک میں خانہ جنگی جیسے حالات پیدا کرنا تھا مگر اس انتہائی جذباتی صورتحال میں ایرانی عوا م کی جانب سے قومی یکجہتی کا ثبوت قابلِ ستائش ہے۔

رہبر اعلیٰ اور مسلح افواج کے متعدد کمانڈروں کی شہادت کے بعد بلاتعطل ان کے جانشینوں کے تقرر سے نہ صرف یہ کہ جنگ کے ہنگام ایران قیادت کے بحران سے محفوظ رہا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کیا ہے کہ ملک کا نظام شخصیات کے بجائے ادارو ں کے ذریعے چل رہا ہے۔ رہبر اعلیٰ کی شہادت کا نقصان غیر معمولی ہے مگر اس صورتحال میں ایران اور اس کے اداروں کا امتحان یہ ہے کہ اس خلا سے کسی داخلی بحران کو پیدا ہونے سے روکا جائے۔ یہی نظم اور ذمہ دار عہدوں کے لیے اہل قیادت کا انتخاب ایران کی اصل طاقت ثابت ہو گا۔ اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت کا ہدف اگرچہ ایران ہے مگر یہ دنیا بھر کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ امریکی صدر کا رویہ جس کا مظاہرہ وینزویلا میں دیکھا گیا ایران میں ایک اور وحشت ناک صورت میں سامنے آیا ہے۔ یہ عالمی امن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

امن پسند‘ جمہوری سوچ کی حامل اور ملکوں کی آزادی اور خود مختاری کے احترام پر یقین رکھنے والی دنیا اس خطرے سے نظریں چرانے کی روادار نہیں ہو سکتی۔ خاص طور پر روس اور چین کے لیے یہ صورتحال ایک چتاؤنی ہے۔ امریکی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ عالمی امن کے لیے غیر معمولی خطرہ بن کر سامنے آ چکا ہے۔ اگرروس اور چین بھی اس صورتحال کی صرف مذمت اور متاثرین سے اظہارِ ہمدردی تک محدود رہے تو عالمی امن کی فاتحہ پڑھ لینی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں