توانائی بحران کا خدشہ
ایران جنگ‘ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال سے پاکستان کیلئے توانائی کی قلت کے خدشات سنگین ہو گئے ہیں۔ اگرچہ اوگرا رولز کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیاں 21 دن کے پٹرولیم ذخائر رکھنے کی پابند ہیں اور سرِدست ملک میں پٹرولیم کا ذخیرہ 28 دنوں کیلئے کافی ہے تاہم آبنائے ہرمز‘ جو دنیا میں تیل کی تجارت کا سب سے اہم راستہ ہے اور جہاں سے عالمی سپلائی کا پچیس فیصد حصہ گزرتا ہے‘ کی بندش کے اثرات سے پاکستان شدید متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ پاکستان کی تیل کی درآمدات کا بڑا حصہ اسی راستے سے آتا ہے۔ اگر یہ راستہ طویل مدت تک بند رہتا ہے تو تیل کی رسد میں فرق آ سکتا ہے اور اس میں معمولی سی رکاوٹ بھی معاشی اور صنعتی اعتبار سے خاصی بھاری ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی مہنگائی کی شرح بلند ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھانے کا سبب بن رہی ہیں۔

ایسے میں تیل کا بحران مہنگائی کے ایک نئے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے‘ جس کا بوجھ غریب عوام کیلئے اٹھانا ممکن نہ رہے گا۔ ان حالات میں ایک جامع آئل مینجمنٹ پالیسی ناگزیر ہو چکی ہے۔ حکومت کو تیل کے ذخیرے کو 21 دن سے بڑھا کر 90 دنوں تک کرنے کی ضرورت ہے‘ اس کے ساتھ پٹرولیم کی سپلائی چین کو متنوع بنانا بھی ناگزیر ضرورت ہے۔ وقتی حالات سے نمٹنے کیلئے حد پٹرولیم ذخائر کی پابندی کے ساتھ قومی سطح پر توانائی کی بچت مہم کا بھی آغاز کرنا چاہیے تاکہ پٹرولیم مصنوعات کا استعمال کم سے کم کیا جا سکے۔