پولیو کا خطرہ برقرار
قومی ادارۂ صحت کے مطابق سندھ کے ضلع سجاول میں ایک چار سالہ بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے‘ جو رواں سال کا پہلا پولیو کیس ہے۔ گزشتہ برس ملک بھر سے پولیو کے 31 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2024ء میں یہ تعداد 74 تھی۔ اگرچہ 1994ء سے لے کر اب تک ملک میں پولیو کے کیسوں میں 99 فیصد سے زائد کمی ہوئی ہے‘ مگر یہ مرض مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔ حکومت پولیو کے خاتمے کیلئے ہر سال باقاعدگی سے انسدادِ پولیو مہمات کا اہتمام کرتی ہے۔ رواں برس جنوری میں بھی ساڑھے چار کروڑ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کیلئے ملک گیر مہم کا اہتمام کیا گیا ‘ تاہم اس مہم میں تقریباً دس لاکھ بچے مختلف وجوہات کی بنا پر پولیو کے قطروں سے محروم رہے۔

ملک سے پولیو کے خاتمے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہے کہ ہر بچے کی بروقت پولیو ویکسی نیشن نہیں ہو پاتی۔ پولیو کا خاتمہ محض حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ والدین اور سماج کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو بروقت پولیو کے قطرے پلائیں۔ حکومت کوآئندہ مہمات کیلئے پیشگی ایسے اقدامات کرنے چاہئیں کہ کوئی ایک بچہ بھی پولیو کے قطروں سے محروم نہ رہے۔ اس مقصد کیلئے آگاہی چلانے مہمات کے ساتھ ساتھ بچوں کو پولیو ویکسی نیشن سے محروم رکھنے والے والدین کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لانی چاہیے۔