ایران جنگ اور عالمی معیشت
ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے معاشی اثرات کی شدت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 24 فیصد بڑھ چکی ہیں۔27فروری کو‘ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 72 ڈالر کے لگ بھگ تھی جو ایک ہفتے بعد 90ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔ گیس کی قیمتوں میں اضافہ تیل سے بھی تیز تر ہے۔ اس ہفتے کے شروع میں قطر انرجی نے اپنی مختلف تنصیبات پر حملوں کی وجہ سے پیداوار معطل کر نے کا اعلان کیا جس کے بعد یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں فوری طور پر 40 فیصد اضافہ ہوا جبکہ منگل کو مزید 30فیصد اضافہ ہوا۔ یورپی اور ایشیائی مارکیٹوں میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

قطر انرجی کی جانب سے ایل این جی کی پیداوار معطل کرنے کے اعلان سے پہلے ہی گولڈمین سیکس کے تجزیہ کار یہ پیشگوئی کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں ٹینکروں کی آمد ورفت میں ایک ماہ تک خلل جاری رہتا ہے تو ایشیائی ایل این جی کی قیمتیں 25 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک بڑھ سکتی ہیں جو اس وقت کی قیمتوں سے 130فیصد زیادہ ہو گی۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں ایران کیخلاف امریکی جارحیت کے معاشی اثرات پوری شدت کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ ان حالات میں قطرکے وزیر توانائی کا ایک بیان جو گزشتہ روز فنانشل ٹائمز میں شائع ہوا عالمی توانائی کی نازک صورتحال اور مستقبل کے پیچیدہ خدشات کو واضح کرتا ہے۔ بقول اُن کے‘ ایران تنازع جاری رہنے کی صورت میں تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں اور خلیجی خطے کے ممالک جو ابھی تک کچھ توانائی پیدا کر رہے ہیں انہیں بھی مجبوراً یہ سلسلہ بند کرنا پڑے گا۔
اس بندش کے اثرات عالمی معیشت پر شدت کے ساتھ سامنے آئیں گے‘ دنیا کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور توانائی کی قلت کی وجہ سے جو پیداوار رک جائے گی اس کے اثرات سلسلہ وار ردِعمل کی صورت میں سامنے آئیں گے۔ توانائی کا یہ بحران محض اندازہ یا صرف دعویٰ نہیں بلکہ ایسی حقیقت ہے دنیا جس کا سامنا کر رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے یہ جنگ شروع کرنے کے کچھ گھنٹے بعد ہی ایران پر فضائی برتری کا دعویٰ کر دیا تھا مگر ایران کا ردِعمل خلیج فارس کے پانیوں میں نظر آ رہا ہے اور زیادہ شدید اور وسیع نوعیت کا ہے۔ یہ بحری گزر گاہ پچھلے ایک ہفتے سے ایرانی پاسدارنِ انقلاب کے قبضے میں ہے۔ مگر توانائی کے ممکنہ بحران کی صرف یہی وجہ نہیں کہ اس راستے سے دنیا کو پہنچنے والی توانائی رکی ہوئی ہے۔ یقینا اس کے اثرات اپنی جگہ ہیں اور نہایت گہرے ہیں مگر توانائی کی شہ رگ پر حملہ صرف آبنائے ہرمز کی بندش کا نتیجہ نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی علاقائی جارحیت کا نپا تلا ردِعمل بھی معلوم ہوتا ہے۔
اس صورتحال نے 1974ء کے آئل ایمبارگو کی یاد تازہ کر دی ہے۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے اثرات عالمی معیشت کیلئے تباہ کن ہیں‘ خاص طور پر ہمارے جیسے ممالک کیلئے جہاں توانائی کے وسائل پہلے ہی بے تحاشا ٹیکس کے زیر اثر ہیں اور عالمی قیمتوں میں اضافے سے ٹیکسوں اور قیمتوں میں مزید اضافہ عوام کی کمر توڑتا ہے۔ خاص طور پر زیریں طبقہ خواہ وہ پاکستان میں ہو یا کہیں اور‘ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست ہدف بنتا ہے۔ ان حالات میں حکومت کو کئی حوالوں سے سوچنا اور عمل کرنا ہوگا۔ صرف قیمتیں ہی زیادہ نہیں دستیابی کا بھی مسئلہ پیش آتا دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں سے بھی جن تین اقوام کے بحری جہازوں کو گزرنے کی سہولت دی گئی ہے پاکستان ان میں شامل ہے تاہم تیل اور گیس کی قیمتیں اور ان کی باربرداری پر اُٹھنے والے اضافی اخراجات کے معاشی اثرات غیر معمولی ہوں گے۔