پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی
ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ سے متعلق وزیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں عوام کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کا وافر ذخیرہ موجود ہے‘ صوبائی حکومتیں ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں۔ ملکی یا بین الاقوامی سطح پر جب بھی کوئی ہنگامی صورتحال پیدا ہوتی ہے‘ ذخیرہ اندوز اور منافع خور عناصر اسے عوام کو لوٹنے کاسنہری موقع بنا لیتے ہیں۔ ایران اسرائیل جنگ کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی پر پیدا ہونیوالے خلل نے بھی ایسے عناصر کو متحرک کر دیا ہے۔ حکومت کی اس یقین دہانی کے بعد کہ ملک میں ضرورت کے مطابق پٹرولیم ذخائر موجود ہیں‘ عوام کو افواہوں یا خوف کے باعث غیرضروری خریداری سے گریز کرنا چاہیے۔

صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ پٹرولیم کمپنیوں کیساتھ مل کر پٹرول پمپوں پر معمول کے مطابق سپلائی یقینی بنائیں اور ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت پیدا کرنیوالوں کیخلاف فوری اور سخت کارروائی کریں۔ عالمی کشیدگی اور معاشی دباؤ کے اس دور میں عوام پہلے ہی متعدد مشکلات کا شکار ہیں‘ ایسے میں منافع خور اور ذخیرہ اندوز عناصر کو عوام کی تکالیف میں اضافہ کرنے کا کوئی موقع نہیں دینا چاہیے۔ حکومت کی بروقت اور مؤثر پالیسیوں‘ عوامی شعور اور ذمہ دارانہ رویے ہی سے اس بحرانی صورتحال سے نمٹا جا سکتا ہے۔ ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات نہ صرف موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر ناگزیر ہیں بلکہ مستقبل کیلئے بھی ایک مثال قائم کرسکتے ہیں۔