ٹیکس چوری کا مسئلہ
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ملک میں سالانہ 71سو ارب روپے کا ٹیکس چوری ہوتا ہے جو معیشت کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ ایف بی آر کے مطابق اس وقت سیلز ٹیکس میں 34سو ارب‘ انکم ٹیکس میں 21سو ارب اور کسٹمز ڈیوٹی میں 16سو ارب روپے کا گیپ موجود ہے۔ ٹیکس چوری کی وجہ سے ملک میں کمزور طبقہ تختہ مشق بنا ہوا ہے جس سے سیلز ٹیکس اور وِد ہولڈنگ ٹیکس کی مدات میں بالواسطہ رقم نکلوا کر حکومتی اخراجات کو پورا کیا جا رہا ہے‘ مگر ٹیکس چوری کا لامتناہی سلسلہ قومی خزانے کے ساتھ جونک کی طرح چمٹا ہوا ہے۔

اگرچہ حکومت نے فنانس بل 2025-26ء میں ٹیکس چوری کے تدارک کیلئے کچھ اقدامات اور قانون سازی کی ہے‘ تاہم تاجر برادری کے دباؤ اور خود ادارے کے اندر موجود بعض بدعنوان عناصر کی وجہ سے ٹیکس چوری کا خاتمہ ایک مشکل چیلنج ہے۔ ٹیکس ٹُو جی ڈی پی تناسب‘ جو اس وقت 11فیصد سے بھی کم ہے‘ حکومت نے اسے 2028ء تک 18فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے مگر ٹیکس چوری کا خاتمہ کیے بغیر یہ ہدف محض دکھاوا ہی لگتا ہے۔حکومت کو فوری‘ ٹھوس اور مربوط حکمت عملی کے ساتھ ٹیکس چوری پر قابو پانا ہوگا بصورت دیگر مالیاتی بحران‘ قرضوں پر انحصار اور معاشی بدحالی ہمارا مستقل مقدر بن جائیں گے اور معیشت کبھی مستحکم نہیں ہو سکے گی۔ضروری ہے کہ حکومت ٹیکس اصلاحات کے نعرے سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے۔