اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بے جا اخراجات کا بوجھ

گزشتہ روز وزیراعظم نے ملکی معاشی صورتحال کے حوالے سے منعقد جائزہ اجلاس میں 48گھنٹوں کے اندر سادگی اور بچت پر مبنی لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بارہا حکومتی سطح پر سادگی اور کفایت شعاری اپنانے کا اعلان کر چکے ہیں مگر عملی طور پر اس ضمن میں کوئی نمایاں پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ سرکاری اخراجات کا ایک بڑا حصہ صرف سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر صرف ہورہا ہے۔ ایک خبر کے مطابق پنجاب میں تقریباً 30 ہزار سرکاری گاڑیاں سالانہ 20 ارب روپے مالیت کا پٹرول استعمال کرتی ہیں۔ اسی طرح سندھ میں 20 ہزار گاڑیاں سالانہ 13 ارب روپے‘ بلوچستان میں آٹھ ہزار گاڑیاں چار ارب روپے جبکہ وفاقی حکومت کے زیراستعمال 12 سے 15 ہزار گاڑیاں سالانہ تقریباً نو ارب روپے کا پٹرول خرچ کرتی ہیں۔

اس وقت وفاق اور صوبوں کے مجموعی اخراجات کا حجم ملکی جی ڈی پی کے تقریباً 22 فیصد کے برابر ہے‘ جو ایک ترقی پذیر اور مالی مشکلات کا شکار ملک کیلئے خاصا بڑا بوجھ ہے۔لہٰذا وزیراعظم کی جانب سے سادگی اور بچت پر مبنی لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کو محض رسمی اقدام کے بجائے ایک سنجیدہ اصلاحی عمل کا آغاز بنایا جانا چاہیے۔ اگر حکومت واقعی قومی وسائل کے تحفظ اور عوامی ریلیف کی خواہاں ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے اخراجات میں کمی کرکے عملی مثال قائم کرنا ہوگی۔ یہ طرزِ عمل عوام کے اعتماد کو بحال کرنے اور معاشی بہتری کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں