اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پٹرولیم قیمتوں کے اثرات

حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے کے غیر معمولی اضافے نے عوام کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ اضافہ 2020ء کے بعد ایک ہفتے میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پہلے ہی مہنگائی کی بلند ترین سطح کا سامنا کرنے والے عوام کے لیے یہ فیصلہ مہنگائی کے زوردار طوفان کی حیثیت رکھتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس قدر اچانک اور بڑے اضافے کے اثرات صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے اثرات پورے معاشی ڈھانچے پر مرتب ہوتے ہیں جن کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہری کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ روز پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے کرایوں میں اضافے کا اعلان کردیا ‘ پاکستان ریلویز کی جانب سے بھی اضافہ کیا گیا۔ اس اضافے کے اثرات صارفین پر پڑیں گے اور محدود آمدنیوں پر معاشی دباؤ میں اضافہ ہو گا۔

حکومت نے اس اضافے کا جواز مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کو قرار دیا ہے۔ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھاری اثر پڑتا ہے تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کا پورا بوجھ فوری طور پر عوام پر ڈال دینا ہی واحد راستہ ہے؟ حکومت کا یہ اقدام اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ معاشی مشکلات کا آسان ترین حل عوام پر مزید بوجھ ڈال دینا سمجھ لیا گیا ہے۔حیران کن امر یہ بھی ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر پاکستان میں فوری طور پر منتقل کر دیا گیاحالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر مقامی مارکیٹ میں عموماً دو ہفتے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے ایک اور اہم پہلو ٹیکسوں کی بھاری شرح ہے۔

اس وقت حکومت پٹرول اور ڈیزل پر مختلف ٹیکسوں اور لیوی کی مد میں فی لیٹر 120روپے سے زائد وصول کر رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت کا ایک بڑا حصہ اصل ایندھن کی قیمت نہیں بلکہ حکومتی محصولات پر مشتمل ہے۔ ایسے میں جب عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو حکومت کو چاہیے کہ ٹیکسوں میں کمی کر کے عوام کو کچھ ریلیف فراہم کیا جائے۔ پاکستان میں زیادہ ترمال سڑکوں کے ذریعے ڈھویا جاتا ہے اورایندھن مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں نتیجتاً اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز کی قیمت بڑھنے لگتی ہے‘ یوں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کی ایک نئی لہر کو جنم دیتا ہے۔حکومت کی جانب سے یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ آئندہ پٹرولیم قیمتوں کا ہر ہفتے جائزہ لیا جائے گا۔ بظاہر یہ اقدام عالمی مارکیٹ کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے مگر اس سے قیمتوں میں عدم استحکام کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔

مسلسل اتار چڑھاؤ عوام کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقے کے لیے بھی غیر یقینی صورتحال کا سبب بنے گا جس سے معاشی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ حکومت کو یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ عوام پہلے ہی مہنگائی‘ بے روزگاری اور سکڑتی ہوئی قوتِ خرید جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ ایسے میں پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ معاشی دباؤ کو مزید بڑھا وا دے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقتی فیصلوں کے بجائے جامع اور دور اندیش پالیسی اختیار کرے جس کے تحت عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔ حکومت عوام کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے خود بھی کچھ بوجھ برداشت کرے۔ پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں میں مناسب کمی کر کے عوام کو فوری ریلیف دیا جا سکتا ہے۔

بروقت اور دانشمندانہ حکمتِ عملی اختیار نہ کی گئی تو پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ نہ صرف مہنگائی میں مزید شدت پیدا کرے گا بلکہ عوامی بے چینی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں