اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ترسیلاتِ زر اور خلیجی خطہ

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق فروری میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے تین ارب 29کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ رقوم‘ تقریباً 70 کروڑ ڈالر متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں نے بھیجیں جبکہ سعودی عرب سے 68کروڑ 50لاکھ ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں۔ برآمدی شعبہ مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے ملکی معیشت ترسیلاتِ زر پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے‘ جن کا زیادہ حصہ خلیجی ممالک سے موصول ہوتا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں موصول ہونے والی 38 ارب 50کروڑ ڈالر کی ترسیلات میں سے تقریباً55فیصد (21 ارب ڈالر ) سے زائد خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں نے بھیجی تھی۔ تاہم امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے کاروباری سرگرمیوں کے تعطل سے یہ تسلسل ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ مغربی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو زیادہ سے زیادہ ترسیلات وطن بھیجنے پر مائل کرنے کیلئے مراعات‘ قانونی اور مالیاتی سہولتیں فراہم کرے۔ ساتھ ہی پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو جیسے اقدامات کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ غیر رسمی ذرائع کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ ترسیلاتِ زر نہ صرف بیرونی کھاتوں کو سہارا فراہم کرتی ہیں بلکہ گھریلو آمدنی میں اضافہ‘ اقتصادی سرگرمیوں کی تحریک اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کیلئے فوری اور مربوط اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ اہم مالیاتی ستون متاثر نہ ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں