اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور ہماری ذمہ داریاں

امریکہ اور ایران کی جنگ کو دو ہفتے ہو چلے ہیں لیکن تاحال امن کی کوئی واضح اور یقینی صورت سامنے نہیں آ سکی۔ اگرچہ صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر خارجہ کے بارے کہا جارہا ہے کہ انہوں نے کشیدگی کم کر نے کا عندیہ دیا ہے مگر امریکہ اور اسرائیل کے حوالے سے کچھ بھی یقین سے کہنا تقریباً ناممکن سی بات ہو چکی ہے۔ یہ بلاشبہ انسانی تاریخ کاایک سیاہ باب ہے کہ تمام تر اخلاقیات اور عالمی قوانین کی موجودگی میں جنگ و جدل اور ملکوں کی سرحدوں کی پامالی کو نیو نارمل سمجھ لیا گیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ دو ہفتے گزر جانے کے بعد بھی عالمی سطح پر جنگ بندی کی سنجیدہ کوششیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور عالمی برادری مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ اقوامِ متحدہ اور او آئی سی سمیت اب تک کسی بااثر عالمی فورم کا کوئی ہنگامی اجلاس تک نہیں طلب کیا گیا جو اس آگ کو بجھانے کیلئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل پیش کر سکے۔

یہ بے حسی نہ صرف انسانیت کیلئے لمحہ فکریہ ہے بلکہ اس سے یہ تاثر پختہ ہو رہا کہ عالمی نظام اپنی مدت پوری کر چکا اور دنیا اب طاقتور ریاستوں کے مفادات کے سامنے بے بس ہے۔ اس جنگ نے عالمی معیشت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں‘ جس کا فوری اور براہِ راست اثر خام تیل کی قیمتوں پر پڑا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں شدید غیر یقینی کا شکار ہیں اور سپلائی لائن متاثر ہونے کے خدشے نے اس کی قیمتوں کو پَر لگا دیے ہیں۔ جنگ کے آغاز سے اب تک برینٹ کروڈ کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے‘ جو 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر کے اب 100ڈالر کی نفسیاتی حد کو چھو رہی ہے۔ معاشی ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر حالات اسی رخ بڑھتے رہے تو یہ قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہے۔ تیل کی ان بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پوری دنیا میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ صورتحال کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔

ہماری معیشت پہلے ہی قرضوں کے بوجھ‘ سرمایہ کاری میں کمی اور اندرونی سیاسی عدم استحکام کے سبب انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے‘ ایسے میں مشرقِ وسطیٰ کا بحران ایک نئے معاشی گرداب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہر ایک ڈالر کا اضافہ پاکستان کے درآمدی بل میں اربوں روپے کا بوجھ ڈالتا ہے‘ جس کا براہِ راست نتیجہ پٹرول‘ ڈیزل اوربجلی کی قیمتوں میں براہِ راست اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ معاشی بوجھ صرف یہیں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک ایسا چین ری ایکشن شروع ہو جاتا ہے جو سماج کے ڈھانچے کو ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے۔ پاکستان کا متوسط اور کم آمدنی والا طبقہ پہلے ہی بری طرح پِس رہا اور اب مزید کسی معاشی جھٹکے کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ پاکستان معاشی‘ جغرافیائی اور تزویراتی‘ کسی بھی لحاظ سے اس خطے میں کسی بھی قسم کے عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ہماری سرحدیں پہلے ہی مختلف چیلنجز کا شکار ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں لگی یہ آگ توانائی کی ترسیل کے علاوہ خلیج میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ لہٰذا اب محض رسمی بیانات یا خاموش تماشائی کے بجائے ایک ایٹمی طاقت اور مسلم امہ کے اہم رکن کی حیثیت سے فعال اور سرگرم سفارتی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اپنی سفارتکاری میں مزید تحرک لانا چاہیے اور مسلم ممالک سمیت عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر فوری جنگ بندی کیلئے دباؤ بڑھانا چاہیے۔ دوست ممالک کے ساتھ مل کر ایک ایسا سفارتی بلاک تشکیل دیا جا سکتا ہے جو عالمی اداروں کو خوابِ غفلت سے جگانے کا کام کرے۔ ہمیں خاموش سفارتکاری کے بجائے جارحانہ امن سفارتکاری کی ضرورت ہے۔ اس جنگ پر مزید خاموشی پورے خطے کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر سکتی ہے لہٰذا وقت کا تقاضا یہی ہے کہ اس سے قبل کہ اس آگ کے شعلے ہماری دہلیز تک پہنچیں‘ پاکستان اپنی تمام تر توانائیاں اس جنگ کو رکوانے کیلئے صرف کرے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں