اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی اور منافع خوری

ماہِ رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہو چکا مگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کا حکومتی دعویٰ بدستور تشنہ تکمیل ہے۔ ملک میں قیمتوں کے نفاذ کا کوئی مؤثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے صارفین کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ بالخصوص پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 55روپے فی لٹر اضافے کے بعد سے منافع خوری کا بازار خوب گرم ہے۔ فروری میں مہنگائی 18ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے جبکہ مختلف معاشی فورمز مارچ اور اپریل میں مہنگائی کی شرح دوبارہ دو ہندسوں میں پہنچنے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے اور منافع خوری کے خاتمے کیلئے سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد کی سخت نگرانی کی جائے۔

منافع خوری کے خاتمے کیلئے خصوصی اقدامات صرف رمضان المبارک میں نہیں سال بھر یکساں قوت کیساتھ نافذ العمل دکھائی دینے چاہئیں۔ دکاندرا اپنا جائز منافع ضرور لیں مگر عوام کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا ‘ قیمتوں کے ساتھ کھلواڑ اور مارکیٹ کی حرکیات کا استحصال نہایت منفی اقدام ہے جس کی حوصلہ شکنی صرف زبانی حد تک نہیں عملی طور پر بھی نظر آنی چاہیے۔ حکومت اگر یہ کر لے اور خوراک کی اشیا عوام کو مناسب داموں میں ملنے لگیں تو یہ عوام کے لیے بہت بڑی راحت کا موجب ہو گا اورمہنگائی کی وجہ سے ضروریات زندگی تک عوامی نارسائی کا سدباب کرے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں