سائبر حملے
ایک خبر کے مطابق رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ملک کے مختلف وفاقی اور صوبائی اداروں پر 98سائبر حملے ہوئے جن میں تعلیمی ادارے‘ ٹیلی کام سیکٹر‘ صحت‘ توانائی‘ دفاع اور ایوی ایشن کے شعبے شامل ہیں۔ بھارت کے خلاف معرکہ حق میں کامیابی کے بعد سے ملکی اداروں پر سائبر حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے‘ جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دشمن اب ہماری ڈیجیٹل سرحدوں پر بھی حملہ آور ہے۔ ان حملوں کا مقصد صرف معلوماتی نظام کو متاثر کرنا نہیں بلکہ نفسیاتی جنگ کے ذریعے عوام میں خوف‘ عدم تحفظ اور عدم اعتماد پیدا کرنا بھی ہے۔ سرکاری محکموں کی ویب سائٹس کیساتھ ساتھ مالیاتی ادارے بھی سائبر حملوں کی زد میں ہیں۔ سائبر سکیورٹی کمپنی کیسپرسکی کی رپورٹ کے مطابق 2025ء میں سمارٹ فونز سے بینکاری معلومات چوری کرنیوالے مال و یئر حملوں میں 2024ء کے مقابلے میں 56فیصد اضافہ ہوا۔

ڈیجیٹل ترقی کیلئے ملک میں سائبر سکیورٹی کے نظام کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ ضروری ہے کہ موجودہ قوانین‘ پالیسیاں اور نظام سائبر خطرات کے مطابق جدید اور مؤثر بنائے جائیں۔ نہ صرف سرکاری محکموں بلکہ مالیاتی اداروں کو بھی اپنی سائبر سکیورٹی میں بہتری لانے اور عوام میں اس حوالے سے آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ ملک کی ڈیجیٹل سالمیت اور قومی دفاع کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ حکومت سائبر سکیورٹی کو قومی ترجیح بنائے اور ملک کی ڈیجیٹل سرحدوں کو ہر ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھے۔