خلیج فارس، بحران کے عالمی اثرات
خلیج فارس کی کشیدہ صورتحال کے باعث توانائی کے عالمی بحران کے خدشات نمایاں ہو کر سامنے آ رہے ہیں۔امریکہ ‘ اسرائیل اور ایران کی جنگ میں عالمی توانائی کی اہم گزرگاہ ‘ آبنائے ہرمز کو بند ہوئے دو ہفتے ہونے کو ہیں۔ ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کرنیوالے جہازوں پر بمباری کے واقعات بھی پیش آ رہے ہیں۔ علاقائی ممالک میں بھی توانائی کی صنعتی تنصیبات پر حملے بھی ہورہے ہیں اور ایرانی مسلح دستوں کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ امریکہ ‘ اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ان حالات میں انٹر نیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے اراکین کی جانب سے اپنے محفوظ ذخائر سے 400ملین بیرل خام تیل فراہم کرنے کا فیصلہ توانائی کی منڈی کی نازک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔1974 ء میں قائم ہونے والی عالمی توانائی ایجنسی کی تاریخ کا یہ چھٹا واقعہ ہے کہ اس کے رکن ممالک کو اپنے محفوظ ذخائر سے تیل نکالنا پڑا ہو۔ اس سے قبل 1991ء میں پہلی خلیجی جنگ کے دوران‘ 2005ء میں امریکہ میں سمندری طوفان کترینہ کے بعد‘ 2011 ء میں لیبیا میں جنگ کے دوران اور 2022 ء میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد دو بار آئی ای اے کو محفوظ ذخائر سے تیل عالمی منڈی میں ڈالنا پڑا۔

تاہم حالیہ مقدار 2022ء میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل کی مقدار سے دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔ آبنائے ہرمز کی طویل بندش عالمی توانائی بحران کی بڑی وجہ ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران کی جانب سے بھی خلیجی ممالک میں کارروائیاں ایک بار پھر تیز ہوتی نظر آ رہی ہیں اورتوانائی کے وسائل جائز ہدف بن چکے ہیں۔ کچھ دن پہلے ایران کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ وہ خلیجی ممالک میں کارروائی میں پہل نہیں کر ے گا‘ توانائی کے وسائل پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی جانب سے ایسی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔جبکہ ایرانی کمانڈروں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے امریکہ‘ اسرائیل اور انکے اتحادیوں کیلئے تیل کی ایک بوند نہیں گزرنے دیں گے۔ ایران پر امریکی‘ اسرائیلی حملے کے بعد اب تک کم از کم 85 ممالک میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے ۔اس دوران جو صورتحال خلیج فارس کے تیل اور گیس سے مالا مال خطے میں نظر آ رہی ہے اس کی تشویشناکی ماضی کے تمام اندیشوں پر غالب ہے۔
کیا یہ جنگ شہروں سے سمندروں تک وسیع ہونے کو ہے؟ بظاہر اس میں کوئی رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔ مگر اس کا نتیجہ خطے اور دنیا کیلئے مزیدبھیانک ہو گا ۔ اس صورتحال کا انجام نجانے کیا ہومگر ایک بات واضح ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کا ہدف صرف ایران نہیں‘ بالواسطہ طور پر وہ سبھی ممالک اس جارحیت کے نشانے پر ہیں جن کی توانائی کا انحصار مشرقِ وسطیٰ کی ریاستوں پر ہے۔ اس صورتحال کے غیر معمولی مضمرات کو سمجھنے کی ہنگامی ضرورت ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ اور دنیا کو اس صورتحال کے المناک انجام سے بچانا ہے تو فوری قدم اٹھانا ہوں گے۔ اس سلسلے میں خطے کے اہم ممالک پاکستان‘ ترکی‘ روس اور چین کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔ سبھی ممالک انفرادی سطح پر اس تنازعے کے جلد از جلد خاتمے کے حق میں ہیں مگرجنگ کے خاتمے کیلئے بیانات سے آگے بڑ ھ کر اقدامات کرنا ہوں گے۔ دوسری صورت میں دنیا پر توانائی کے بحران کے عالمی خطرات نہ ختم ہونیوالے ہیں۔
گزشتہ دنوں یکمشت 55روپے فی لٹر اضافے کے بعد ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں کا بہت اونچی سطح پر پہنچ جانا پاکستان کیلئے چھوٹا مسئلہ نہیں۔اس وقت تیل کی عالمی قیمتیں 92 ڈالر کے آس پاس ہیں مگر امریکہ‘ اسرائیل اور ایران کا تصادم اسی طرح رہا اور سپلائی میں خلل برقرار رہا تو ماہرین ایک ہفتے میں تیل کی قیمتیں 150 سے200ڈالر فی بیرل تک بڑھنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہیں۔