اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

امن کو ایک اور موقع

حکومت پاکستان نے عید الفطر کے تقدس اور سعودی عرب‘ ترکیہ اور قطر جیسے برادر مسلم ممالک کی درخواست پر گزشتہ شب سے 23اور 24مارچ کی درمیانی شب تک آپریشن غضب للحق میں عارضی توقف کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف دوست ممالک کی مثبت سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے بلکہ اس میں پاکستان کی نیک نیتی اور امن کی خواہش بھی واضح نظر آتی ہے۔ 26فروری کو شروع کیے گئے اس آپریشن کا مقصد افغان طالبان کی سرحدی فائرنگ اور دہشتگرد عناصر کے حملوں کا منظم جواب دینا تھا۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 22 روزہ آپریشن کے دوران اب تک 707دہشت گرد ہلاک اور 938سے زائد زخمی ہوئے‘ دہشتگردوں کے 255 ٹھکانے تباہ کیے گئے اور 44 چوکیوں پر قبضہ کیا گیا جبکہ237 ٹینک‘ آرمرڈ گاڑیاں اور توپیں بھی ناکارہ بنائی گئیں۔

افواجِ پاکستان کی یہ کامیابیاں طالبان رجیم کیلئے واضح پیغام ہیں کہ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے لیکن اپنی سرزمین اور عوام کی حفاظت کیلئے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کی بھی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ افغان طالبان کی اپنی سرزمین کو دہشتگردی کیلئے استعمال ہونے دینے کی پالیسی نے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے امن کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ یہ عارضی جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہو سکتی ہے بشرطیکہ طالبان کی عبوری حکومت فتنہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد عناصر کی پشت پناہی سے مکمل طور پر دستبردار ہو اور عملی اقدامات کے ذریعے پاکستان کے ساتھ اعتماد کو مضبوط کرے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں