ایک ہوں مسلم…!
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں علاقائی سلامتی سے متعلق عرب اسلامی وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خلیج عرب کا خطہ جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ اس اہم بیٹھک میں پاکستان کی شرکت اس مؤقف کی تائید کرتی ہے کہ خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری‘ علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ 28فروری سے ایران کے خلاف امریکی اوراسرائیلی جارحیت اور ایران کی جانب سے ردعمل میں خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کے خلاف کارروائیوں سے علاقائی سالمیت کو درپیش چیلنجز شدید صورت اختیار کر چکے ہیں ۔ ان واقعات نے نہ صرف خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل بھی شدید طور پر متاثر ہوئی ہے۔ حالیہ دو ہفتوں کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں قریب 30 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ قدرتی گیس کے حالات اس سے بھی برے ہیں۔دنیا کیلئے توانائی کے اس تاریخی بحران کا سامنا کرنا آسان نہیں تاہم اس صورتحال میں خلیجی ممالک کی سلامتی اور خود مختاری کیلئے جو سنجیدہ سوالات پیدا ہو چکے ہیں ان کی سنگینی اپنی جگہ ہے۔

ان چیلنجز نے ثابت کیا ہے کہ اب دشمن صرف جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ اقتصادی اور دفاعی طور پر بھی مسلم ورلڈ کو کمزور اور منتشر کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ ان حالات میں علاقائی سالمیت کے حوالے سے قطر کے سابق وزیراعظم کے حالیہ بیانات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ حمد بن جاسم آل ثانی نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک کو فوری طور پر اپنے اختلافات ختم کر کے نیٹو کی طرز پر مؤثر فوجی و سکیورٹی اتحاد قائم کرنے کی جو تجویز دی ہے وہ محض ایک مفروضہ نہیں بلکہ درپیش مسائل کا ٹھوس‘ مربوط اور قابلِ عمل حل معلوم ہوتا ہے۔گزشتہ برس ستمبر میں قطر پر اسرائیلی میزائل حملوں سے لے کر ایسے کئی واقعات ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ امریکہ کو خلیجی خطے میں عرب ممالک کی سکیورٹی سے زیادہ اسرائیلی مفادات کا تحفظ عزیز ہے اور خلیجی ممالک میں دفاعی اعتبار سے امریکہ مسائل کا موجب ہے‘ حل نہیں۔ اس صورتحال میں خلیجی ممالک میں اپنی سکیورٹی سے متعلق خدشات کا پیدا ہونا بے جا نہیں۔ حالیہ صورتحال میں یہ ثابت ہو چکاہے کہ خلیجی ممالک کیلئے امریکی دفاعی چھتری قابلِ بھروسا نہیں۔ مؤثر حل وہی ہے جو قطر کے سابق وزیر اعظم نے تجویز کیا ہے کہ عرب ممالک ایسا علاقائی اتحاد تشکیل دیں۔
اس میں پاکستان اور ترکیہ جیسی اہم عسکری قوتوں کا مرکزی کردار ہو۔ عرب ممالک کے مادی وسائل اور پاکستان اور ترکیہ کی عسکری صلاحیتیں مل کر ایسا مضبوط دفاع یقینی بنا سکتی ہیں جو خلیجی ممالک کیلئے پائیدار اور یقینی سلامتی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ جب تک مسلم ممالک اپنی داخلی پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا نہیں کرتے اور اپنے تنازعات خود حل کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں کرتے‘ نہ صرف بیرونی مداخلت کا سلسلہ جاری رہے گا بلکہ داخلی سکیورٹی بھی عدم استحکام کا شکار رہے گی۔ دفاعی خود انحصاری اور معاشی خودمختاری وہ کنجی ہے جس سے ملکی دفاع اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ خطے کی کشیدہ صورتحال جہاں ایک بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے‘ وہیں اس میں ایک موقع بھی ہے کہ درپیش مسائل کا حل علاقائی اتحاد اور اسلامی اخوت کے تناظر میں تلاش کیا جائے۔ پاکستان بھی اسی فکر کا حامی ہے اور موجودہ صورتحال بھی اس بات کی متقاضی ہے کہ مسلم ممالک کے درمیان محض جذباتی وابستگی کے بجائے ایک مضبوط دفاعی اور تزویراتی تعاون قائم ہو۔ آج کے دور میں کوئی بھی ملک تنہا اپنی بقا کی جنگ نہیں لڑ سکتا۔
دفاعی شعبے میں ٹیکنالوجی کا تبادلہ‘ مشترکہ فوجی مشقیں‘ انٹیلی جنس شیئرنگ اور دفاعی ساز و سامان کی تیاری کے شعبے مسلم ممالک کو فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ مسلم دنیا اپنی اجتماعی طاقت کو یکجا کر لے تو کوئی بھی بیرونی قوت ان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکے گی۔