اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پائیدار حل کی تلاش

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اتوار کو کہا کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 69ارب روپے کا بوجھ برداشت کیا‘ کوشش کر رہے ہیں عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے‘ ہمارے وسائل لامحدود نہیں‘ حکومت ٹارگٹڈ ریلیف کی طرف بڑھ رہی ہے تاکہ مستحق طبقے کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ وزیر خزانہ نے زیادہ پائیدار حل کی طرف جانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ حکومت کا خیال ہے کہ اپریل تک سپلائی کی صورتحال مناسب رہے گی۔ عید الفطر کے دوسرے روز وزیر خزانہ کی اس پریس کانفرنس میں بین السطور جن خدشات کا اظہار کیا گیا وہ بے جا نہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ نے دنیا کو توانائی کے غیر معمولی خطرات میں ڈال دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ نے عالمی توانائی کے نظام کیلئے ایک بھیانک منظر نامہ پیداکر دیا ہے جس نے توانائی کی سپلائی اتنی کم کر دی ہے کہ دنیا بھر کے صارفین کو بھاری ادائیگی بھی کرنی پڑے گی اور استعمال بھی کم کرنا پڑے گا۔ آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش نے 28فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سے 20فیصد تیل اور ایل این جی کی نقل و حمل کو روک دیا ہے۔

اب تک تقریباً 400ملین بیرل تیل یعنی عالمی سپلائی کے تقریباً چار دن کے برابر‘ مارکیٹ سے نکل چکا ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں تقریباً 50فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔اس صورتحال میں حکومت کی جانب سے عوام کو اعتماد میں لینا اور در پیش مسائل کا سامنا کرنے کی حکمت عملی وضع کرنا ناگزیر ہے۔ جیسا کہ وزیر خزانہ نے کہا حکومت کی معاشی سکت لامحدود نہیں جبکہ توانائی کی مؤثر بندش کی وجہ سے قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے‘ اس صورتحال میں مناسب حکمت عملی اور بروقت اقدامات بحران کو کم کرسکتے ہیں۔ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ کم آمدنی والے طبقے پر اس بحران کا بوجھ کم سے کم ہو اور صنعتی پہیہ جمود کا شکار نہ ہو۔ اس کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی والی حکمت عملی صائب معلوم ہوتی ہے ۔ مگر عملی طور پر اس کی کیا صورت ہو گی ابھی تک اس حوالے سے کچھ کہا نہیں جاسکتا کیونکہ حکومت کی جانب سے بھی کوئی عندیہ نہیں دیا گیا کہ ٹارگٹڈ سبسڈی کی عملی صورت کیا ہو گی۔ کیا حکومت پٹرول کی راشننگ کا سوچ رہی ہے یا کوئی دوسری صورت زیر غور ہے۔

مسئلہ صرف ڈیزل اور پٹرول کا نہیں قدرتی گیس کا بھی ہے جو کہ صنعتوں کیلئے توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ملک میں قدرتی گیس کی پیداوار میں کمی کا حل ایل این جی کی درآمد میں تلاش کیا گیا مگر امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے ردعمل میں خلیجی ریاستوں میں قدرتی گیس کے وسائل بھی نشانہ بنے ہیں اور قطر کے سب سے بڑے ایل ا ین جی پلانٹس کے بارے تو یہ خدشات ہیں کہ انہیں معمول پر آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قطر سے ایل این جی کا حصول لمبی عرصے کیلئے مسائل سے دوچار ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کے اثرات ہمارے جیسی کمزور معیشتوں کیلئے زیادہ تشویش کا باعث ہیں۔ توانائی کی مہنگائی معاشی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دے گی اور ذرائع آمدنی پر گہرے اثرات کے اندیشے خارج از امکان نہیں۔ امریکہ کی مسلط کی ہوئی اس جنگ کے اثرات غیر معمولی اور وسیع تر ہیں۔ ماضی میں امریکہ کی شروع کی ہوئی جنگوں کے اثرات ایک علاقے یا ملک تک محدود رہے ہیں مگر اس جنگ نے پوری عالمی معیشت کو جکڑ لیا ہے اور اس کے اثرات روز بروز شدت اختیار کرتے جارہے ہیں۔

ان حالات میں توانائی کے وسائل کی مینجمنٹ اور ٹارگٹڈ سبسڈی کی حکمت عملی کے باوجود زیادہ وقت تک بچاؤ کا امکان مشکل نظر آتا ہے۔ دنیا کو اس معاشی تباہی‘ افلاس اور صنعتی کساد بازاری کے بھیانک اثرات سے بچانے کے لیے ایران امریکہ اسرائیل جنگ کا فی الفور خاتمہ ناگزیر ہے۔ حکومت پاکستان کو اس سلسلے میں متحرک کردار ادا کرنے کہ ضرورت ہے۔ بچاؤ کی یہی صورت ہے کہ جنگ بندی ہو اور مسائل کا حل سفارتی ذرائع سے ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں