اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

کھاد بحران کا خدشہ

 مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران نے پاکستان کیلئے یوریا کھاد کی قلت کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ نہ صرف توانائی کا مرکز ہے بلکہ پاکستان اپنی کھاد کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ اسی خطے سے درآمد کرتا ہے۔ خدشہ ہے کہ سمندری تجارتی راستوں میں عدم استحکام اور سپلائی چین متاثر ہونے کا براہِ راست اثر پاکستان کی زرعی پیداوار پر پڑ سکتا ہے۔ ان حالات میں خریف کی فصلوں کیلئے یوریا کا خاطر خواہ سٹاک یقینی بنانا حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ خریف کے سیزن میں کپاس‘ چاول اور گنے جیسی اہم فصلیں کاشت کی جاتی ہیں جنہیں وافر مقدار میں کھاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اس موقع پر کھاد کی قلت پیدا ہوئی یا اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو اس کا براہ اثر فصلوں کی بوائی اور ان کی پیداوار پر پڑے گا۔

خریف کی فصلیں ملکی برآمدات کے حوالے سے بھی نہایت اہم ہیں‘ لہٰذا ضروری ہے کہ اس حوالے سے تیاری مکمل رکھی جائے۔ دیکھا گیا ہے کہ جب کبھی کھاد کا بحران سر اٹھاتا ہے‘ ذخیرہ اندوز مافیا بھی سرگرم ہو جاتا ہے جو مصنوعی قلت پیدا کر کے کسانوں کا استحصال کرتا ہے۔ لہٰذا حکومت کو محض سٹاک کے اعداد و شمار پر تکیہ کرنے کے بجائے ٹھوس عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ زرعی تحفظ کیلئے یوریا کے ضروری ذخائر کا موجود ہونا ہی کافی نہیں‘ بلکہ منصفانہ تقسیم اور قیمتوں کا استحکام بھی ضروری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں