دہشت گردی کے اثرات
گلوبل ٹیررازم انڈیکس کی حالیہ رپورٹ پاکستان کے سکیورٹی منظرنامے کے حوالے سے ایک سنگین صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان کا پہلے نمبر پر شمار اس تلخ حقیقت کی یاددہانی ہے کہ وطنِ عزیز ایک بار پھر نہ صرف دہشت گردی کی ایک نئی لہر کی لپیٹ میں ہے بلکہ اس نے معیشت اور سماجی ڈھانچے کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025ء میں پاکستان میں دہشت گردی سے ہونے والا جانی نقصان 2013ء کے بعد بلند ترین سطح پر ہے۔ یہ رپورٹ اس حقیقت کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے سے پاکستان کی سلامتی اور استحکام پر گہرا اثر پڑا۔ افغانستان آج بھی دہشت گرد گروپوں کیلئے ایک محفوظ پناہ گاہ اور پاکستان میں دہشت گردی کا منبع ہے۔

بین الاقوامی برادری کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان محض اپنی سلامتی کی جنگ نہیں لڑ رہا بلکہ عالمی امن کی خاطر ایک ایسی دیوار بنا ہوا ہے جس نے پورے خطے میں استحکام قائم کر رکھا ہے۔ علاقائی امن کی پاکستان نے جو قیمت چکائی ہے‘ اس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی۔ آپریشن غضب للحق نے دہشت گردی کی صورت میں پاکستان کا ردعمل افغانستان پر واضح کر دیا ہے۔ اب اندرونی محاذ پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کے ذرائع کا بھی قلع قمع کیا جا سکے۔