اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

امن امکانات !

ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ مشرق وسطیٰ کے امن‘ استحکام اور عالمی معیشت کیلئے ڈراؤنا خواب بن چکی تھی۔ مقامِ شکر ہے کہ اس صورتحال میں ٹھہراؤ کے اشارے ملے ہیں اور متحارب فریقین میں جنگ ختم کرنے کی باتیں سنائی دے رہی ہیں۔ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر یہ بیان جاری کیا کہ ’’میں یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہوں کہ امریکہ اور ایران نے مشرق وسطیٰ میں دشمنی کے مکمل اور کلی خاتمے کے حوالے سے گزشتہ دو دنوں میں بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت کی ہے۔ اس گہری‘ تفصیلی اور تعمیری بات چیت کے مزاج اور لہجے کی بنیاد پر‘ جو پورے ہفتے جاری رہے گی‘ میں نے محکمہ جنگ کو ایرانی پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف تمام فوجی حملوں کو پانچ دن کی مدت کیلئے ملتوی کرنے کی ہدایت کی ہے‘ جو جاری ملاقاتوں اور مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہے‘‘۔

بعد ازاں پالم بیچ‘ فلوریڈا میں امریکی صدر نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ہمارے پاس معاہدے کا ایک بہت سنجیدہ موقع ہے اور یہ کہا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا معاہدہ ہو گیا تو تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے گر جائیں گی۔ امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کا عندیہ اور امن معاہدے کی توقع خوش آئند ہے اور دنیا کیلئے سکھ کا سانس لینے کا موقع ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر گزشتہ برس کے حملے کی طرح یہ حملہ بھی اُس وقت کیا گیا جب جوہری معاملات پر فریقین میں مذاکرات میں پیشرفت نظر آ رہی تھی اور اس پیشرفت سے آگاہ حلقوں کی جانب سے توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ ایران جوہری معاملات پر معاہدے کیلئے آمادہ ہے۔ مگر ناجائز اور جارحانہ حملے میں یہ موقع گنوا دیا گیا اور اس کی قیمت صرف ایران نے نہیں بھگتی‘ امریکہ‘ خلیجی ریاستیں اور مجموعی طور پر دنیا بھر کو اس کی تکلیف کسی نہ کسی طرح برداشت کرنا پڑی ہے۔ اس دوران تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ اور قدرتی گیس کے پیداواری نظام کے جنگ کا نشانہ بننے سے توانائی کا خوفناک بحران دنیا کو لپیٹ میں لے چکا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے سربراہ فتح بیرول کے بقول ایران پر امریکی جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والا توانائی کا بحران 1973ء اور 1979ء کے تیل بحران اور 2022ء میں روس کے یوکرین پر حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گیس کی قلت سے بھی زیادہ سنگین ہے۔

بہرحال دنیا کو اس مشکل صورتحال میں ڈالنے اور ایک آزاد‘ خودمختار ملک کے خلاف جارحیت کے ارتکاب کے بعد طاقتور امریکی صدر کو احساس ہو گیا ہے کہ جنگ کے میدان میں فیصلہ نہیں ہو سکتا‘ بات مذاکرات کی میز پر ہی طے ہو سکتی ہے۔ اس جنگ نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ دنیا میں عسکری طاقت کا توازن ماضی سے بہت مختلف ہے اور جدید جنگی مشینری کے سستے توڑ مارکیٹ میں آ چکے ہیں۔ اس جنگ میں امریکہ کو ماضی کے برعکس اپنے مغربی اتحادیوں کی حمایت کا نہ ملنا بھی غنیمت ٹھہرا۔ خلیجی عرب ریاستوں کو اس پرائی جنگ میں جو دکھ اٹھانا پڑا وہ بھی انمٹ اور ناقابلِ تلافی ہے۔ ان ممالک کا اثاثہ ہی یہاں کا استحکام اور پُرامن ماحول تھا‘ جسے امریکہ اور اسرائیل کی شروع کردہ جنگ نے ایسے تجربے سے روشناس کرایا ہے جس کیلئے وہ بالکل تیار نہ تھے۔ اس صورتحال نے خلیج فارس کے علاقے کی مسلم ریاستوں کو باہمی دشمنی کے ایک نئے دور میں دھکیل دیا ہے۔

دو برس ہوئے کہ چین کے دستِ رفاقت نے ایران اور سعودی عرب کو قریب کیا مگر اسرائیل اور امریکہ کی اس جنگ نے مسلم ریاستوں میں قربت کے امکانات کو خاصا صدمہ پہنچایا ہے۔ بہرکیف اس سب کچھ کے بعد بھی اگر متحارب فریقین بات چیت کی طرف آئیں تو خوش آئند ہے۔ اس پیشرفت کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے فریقین کو خلوص دل سے کام کرنا چاہیے۔ دنیا مزید جنگوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ بنی نوع انسان کو ترقی اور خوشحالی کیلئے امن کی تلاش ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں