فضائی آلودگی
سوئس ایئر کوالٹی مانیٹرنگ فرم آئی کیو ایئر کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2025ء میں پاکستان دنیا میں سموگ سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک رہا‘ جہاں فضا میں موجود ذرات پی ایم 2.5 کی اوسط مقدار عالمی ادارۂ صحت کے طے شدہ معیار سے 13گنا زیادہ رہی۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 150 سے 200 کے درمیان ایئر کوالٹی انڈیکس مضر صحت جبکہ اس سے اوپر انتہائی مضر صحت ہوتا ہے جبکہ گزشتہ برس ملک کے کئی شہروں میں یہ ایک ہزار پوائنٹس سے بھی تجاوز کر گیا تھا۔ پی ایم 2.5ذرات سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں جا کر خون کے بہاؤ میں شامل ہو جاتے اور دل‘ پھیپھڑوں اور دیگر اعضا کے پیچیدہ امراض کے خطرات پیدا کرتے ہیں۔ فضائی آلودگی کی اس خطرناک صورتحال کو نہ تو نظر انداز کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کیساتھ گزارا ممکن ہے۔

گزشتہ برس دسمبر میں پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کا سب سے بڑا محرک ٹریفک ہے۔ روز افزوں موسمیاتی تبدیلیاں ملک کو پہلے ہی ماحولیاتی سختیوں کا شکار بنا چکی ہیں۔ ضروری ہے کہ حکومت فضائی آلودگی کے مستقل خاتمے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کرے۔ اس کے لیے ٹریفک کا مؤثر انتظام‘ صنعتوں میں فلٹرز اور ضابطوں کی سخت نگرانی‘ فضلہ جلانے کے عمل پر پابندی اور شہریوں میں شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔