توانائی بچت کی جامع حکمت عملی
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ خام تیل کی پیداوار اور ترسیل میں غیریقینی صورتحال کے سبب عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بلند ہو رہی ہیں‘ اور یہ بحران براہِ راست ملک عزیز پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ اگرچہ حکومت نے اس غیرمعمولی صورتحال میں تیل کی بچت اور اخراجات میں کمی کیلئے کچھ اقدامات کیے ہیں لیکن عوامی سطح پر توانائی بچت کا کوئی رجحان دکھائی نہیں دیتا۔ شہروں کی سڑکوں پر گاڑیوں کا رش معمول کے مطابق ہے‘ تیل کی بچت کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کے بجائے شہری اب بھی ذاتی سواری کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ رجحان عید کے موقع پر بھی پوری شدت سے برقرار رہا۔ ٹریفک پولیس کے مطابق عید کے موقع پر 70ہزار سے زائد گاڑیوں نے مری جبکہ دیگر تمام سیاحتی مقامات پر بھی غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عوامی تعاون نہ ہونے کی وجہ سے توانائی بچت مہم عملاً کہنے کی حد تک ہی ہے ۔اس صورتحال میں ضروری ہے کہ توانائی کی بچت کیلئے خصوصی اقدامات کیے جائیں ۔ ایک طرف تعلیمی اداروں میں چھٹیاں بڑھائی جارہی ہیں کہ ایندھن کی بچت ہو جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد میں پھر بھی کوئی کمی نہیں۔ صرف حکومتی اقدامات سے تیل کی بچت ممکن نہیں‘ اس کے لیے عوامی ذمہ داری کا احساس بھی ناگزیر ہے۔ شہریوں کے ذمہ دارانہ رویے کے بغیر توانائی بحران کے اثرات بڑھتے رہیں گے اور ملک کو توانائی کی قلت اور مزید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔