"RKC" (space) message & send to 7575

بھارت کے وشواگرو کا زوال

ہم انسانوں میں خوبیاں اور خامیاں دونوں موجود ہیں۔ کچھ خامیاں کم نقصان دہ تو کچھ زیادہ خطرناک ہیں۔ میں ذاتی طور پر جن دو خامیوں یا برائیوں کو سب سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ سمجھتا ہوں ان میں ایک تکبر اور دوسری حسد ہے۔ میرے خیال میں حسد انسان کے بس میں نہیں ہے کہ یہ انسان کی جبلت ہے۔ انسان حسد کو دوسروں سے چھپا سکتا ہے لیکن خود سے نہیں چھپا سکتا۔ آپ کو علم ہوتا ہے کہ آپ کے اندر کسی وجہ سے حسد یا جلن پیدا ہو رہی ہے۔ جو لوگ حسد کو رشک کی شکل دے دیتے ہیں وہ بہت ترقی کرتے ہیں کہ وہ دوسروں جیسا بننا چاہتے ہیں اور اس کیلئے مثبت طریقہ کار اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ حسد کرنے کے بجائے یہ سوچتے ہیں کہ فلاں بندے میں ایسی کون سی خوبیاں ہیں جو اسے آگے لے گئی ہیں اور میں بھی ان خوبیوں یا عادات کو فالو کر کے اس طرح ترقی کر سکتا ہوں۔ ہمارے ہاں رشک کا مطلب بہت کم لوگ سمجھتے ہیں لیکن حسد سب کرتے ہیں لہٰذا حسد کے زیر اثر اکثر لوگ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں‘ چاہے وہ آپ کے رشتہ دار ہوں یا دوست یا پھر دفتر کے کولیگز۔ یاد رکھیں کہ یہ ایک فطری جذبہ ہے‘ جو آپ سے حسد کر رہا ہے وہ بھی مجبور ہے کیونکہ یہ انسان کی فطرت میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس لیے قرآن میں بھی حاسدین کے شر سے پناہ مانگنے کا کہا گیا ہے۔ حسد کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس انسان سے کیا جاتا ہے جس پر خدا کا فضل زیادہ ہوتا ہے‘ مطلب جس کے پاس دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے اُس سے لوگ حسد کرتے ہیں۔
آپ نے ایک بات نوٹ کی ہو گی کہ آپ سے حسد وہی لوگ کرتے ہیں جو آپ سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ جو آپ سے زیادہ امارت‘ دولت یا عہدہ رکھتا ہے یا آپ سے آگے کھڑے ہیں وہ کبھی آپ سے حسد نہیں کریں گے۔ یہ نکتہ بڑا اہم ہے‘ لہٰذا اگر آپ سے کوئی حسد کرتا ہے تو بھی آپ کو برا نہیں منانا چاہیے بلکہ اگر زیادہ قریبی ہے تو اسے زیادہ توجہ دیں‘ اس سے انکساری سے پیش آئیں۔ کبھی مجھے پتا چلتا تھا کہ فلاں دوست نے فلاں جگہ میرے خلاف بات کی ہے تو میں بھی دوسروں کی طرح برا مناتا تھا لیکن پھر جب قرآن پاک میں حسد بارے پڑھا تو اندازہ ہوا کہ ہم انسان مجبور ہیں تو میں نے ان دوستوں سے ناراض ہونے کے بجائے انہیں زیادہ اہمیت دینا شروع کر دی۔ شاید میں بھی کسی دوست بارے ایسی باتیں کرتا ہوں جو مجھے لگتا ہو کہ مجھ سے آگے ہے یا میں رشک کا سہارا لے کر خود کو بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ لیکن تکبر یا غرور وہ انسانی جذبہ ہے جو ہمارے اپنے قابو اور کنٹرول میں ہے اور ہمیں اس جذبے سے لڑنے کی ضرورت ہے۔ ہم میں سے جو لوگ خود کو دوسروں سے بہتر‘ اچھا اور غیرمعمولی سمجھنے لگ جاتے ہیں‘ ایسے لوگ نرگسیت پسند ہوتے ہیں اور اپنی ذات اور شخصیت ہی ان کی آئیڈیل ہوتی ہے۔ وہ خود کو خدا کا منتخب بندہ سمجھ کر اپنی ہی پرستش شروع کر دیتے ہیں۔ پھر وہ دوسروں سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ بھی ان کی شخصیت کے سحر میں ویسے ہی گرفتار ہو جائیں جیسے وہ خود ہیں۔ یوں وہ دھیرے دھیرے اپنے اندر وہ تبدیلیاں لاتے ہیں تاکہ دوسروں سے برتر لگیں۔ ان کا لہجہ‘ ان کی باتیں‘ انداز اور حرکتیں ایسی ہونے لگتی ہیں کہ دوسروں کو نفرت اور حقارت کے ساتھ دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ وہ ''وشواگرو‘‘ ہیں۔ وہ مہاتما ہیں اور پوری دنیا وہ چلاتے ہیں۔ آخری بادشاہ وہی ہیں اور ان کے بعد قیامت ہے۔
یہ سب باتیں بھارت میں چھپنے والا ایک مضموں کو پڑھ کر میرے ذہن میں آئیں۔ بھارت میں اس وقت یہی شور مچا ہوا ہے کہ یہ ہمارے ساتھ کیا ہوا ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی تو دھڑام سے زمین پر آن گری ہے کیونکہ پاکستان‘ جسے ہم کسی کھاتے میں نہیں رکھتے تھے‘ وہاں ایران اور امریکہ کے مذاکرات ہوں گے۔ اس خبر نے پوری دنیا میں بالعموم اور بھارت میں بالخصوص لرزہ طاری کر دیا ہے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہ امریکہ اور ایران کے زیادہ قریبی ہیں اور انہوں نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔ اب دنیا میں بھارت اور وزیراعظم مودی کا سکہ چلتا ہے۔ پوری دنیا مودی اور بھارت کی دیوانی ہے اور اب سب لیڈر مودی صاحب کے دوست ہیں‘ جن سے وہ گلے ملتے ہیں اور اب ان کا ٹائٹل وشوا گرو کا ہے۔ پورا بھارت اب ان کے گیت گاتا ہے کہ انہوں نے دس برسوں میں بھارتی خارجہ پالیسی کو آسمان پر پہنچا دیا ہے‘ اور پاکستان کو اکیلا کر دیا ہے۔ ہمارے بھارتی دوستوں کو پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب پچھلے سال مئی کی جنگ کے بعد دنیا کا کوئی ملک پاکستان کے خلاف بھارت کی بات پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھا۔ سب کہتے تھے کہ پہلگام کے ثبوت دو۔ بھارت حیران تھا کہ جب وشوا گرو (مودی) کہہ رہا ہے کہ پہلگام واقعہ میں پاکستان ملوث ہے تو دنیا ان سے سوال کیوں کر رہی ہے۔ دنیا کا کوئی ملک بھارت کا ساتھ دینے کو تیار نہ تھا جبکہ دوسری جانب چین‘ ترکیہ اور آذربائیجان کھلم کھلا پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے۔ تب بھارت کو جھٹکا لگا کہ ہمارے ساتھ جنگ میں کوئی ایک ملک بھی کھڑا نہیں ہوا۔ باقی چھوڑیں فرانس تک کھڑا نہیں ہوا جس سے ساٹھ کروڑ بھارتی روپے میں رافیل جہاز خریدے گئے تھے۔ امریکہ تک کھڑا نہ ہوا جس کے ساتھ بھارت کی پچاس سال پرانی سٹرٹیجک دوستی چل رہی تھی کہ بھارت چین کو روکے گا۔ امریکہ کو اس جنگ میں احساس ہوا کہ وہ اپنے جس پہلوان (بھارت) کو چین سے لڑنے کیلئے تیار کرر ہا تھا وہ تو پاکستان سے مار کھا گیا جو اس سے حجم اور فوجی اور معاشی قوت میں بہت چھوٹا ہے۔ جتنا بڑا جھٹکا بھارتیوں کو لگا کہ امریکہ بھارت کے بجائے پاکستان‘ اس کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی تعریفوں کے پل باندھ رہا تھا‘ اتنا ہی بڑا جھٹکا امریکہ کو بھی لگا تھا کہ ہم نے اپنے جس پہلوان کو بادام‘ دودھ‘ شہد‘ کُشتے اور پکوان کھلا کر بڑا کیا تھا کہ ایک دن وہ چین کو ٹکڑ دے گا وہ تو اپنے سات جہاز پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں تباہ کرا بیٹھا تھا۔
بھارت کو اب معرکۂ حق میں ناکامی سے بھی بڑا جھٹکا یہ لگا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کی جنگ رکوانے کیلئے پردے میں رہ کر کردار ادا کر رہا ہے۔ ترکیہ‘ مصر اور عمان بھی اس کام میں ساتھ ہیں۔ سی این این کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اس وقت صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشیر خاص وٹکاف کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ایران کے ساتھ معاملات ٹھیک کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر کوئی کسر رہ گئی تھی تو اب اس خبر سے پوری ہو گئی ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے فون پر براہِ راست ایران ایشو پر گفتگو ہوئی ہے اور ممکن ہے کہ اس حوالے سے اسلام آباد میں مذاکرات کا انعقاد ہو جس میں نائب امریکی صدر جے ڈی وینس بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ اب سارا بھارت پوچھ رہا ہے کہ ہم تو پاکستان اور پاکستانیوں کو برا بھلا کہتے رہے اور اس گمان میں رہے کہ ہمارے پاس وشوا گرو ہے لیکن بازی پاکستان مار گیا۔ بھارتی دوستوں کو ان کا غرور اور تکبر لے ڈوبا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کی باتیں سن کر لگتا تھا کہ وہ دنیا کی عظیم ترین قوم ہیں۔ اب بھارتی پوچھ رہے ہیں کہ یہ کیا ہوا کہ اتنی بڑی ڈپلومیٹک سرگرمی پاکستان میں ہورہی ہے‘ جہاں امریکہ اور ایران بیٹھ کر بات کریں گے اور ہمارے وشواگرو مودی صاحب سے کسی نے سوکھے منہ پوچھا تک نہیں‘ جو سب کو گلے لگا کر بڑے بڑے نقلی قہقہے لگاتا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں