اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

تاریخی سفارتی کردار

وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کوششوں کا خیرمقدم اور مکمل حمایت کرتا ہے جو خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے مفاد میں ہے۔ امریکہ اور ایران کی رضامندی کیساتھ پاکستان جاری تنازع کے جامع تصفیے کیلئے بامعنی اور فیصلہ کن مذاکرات کی میزبانی کرنے کیلئے تیار ہے ۔ کچھ روز سے بین الاقوامی میڈیا میں مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے خاتمے کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکرکیا جا رہا تھا‘ وزیراعظم کے اس بیان نے اس کی تصدیق کر دی ہے جو کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک نئی اور جرأت مندانہ جہت کی عکاسی کرتا ہے‘ جس کا مقصد عالمی تنازعات میں فریق بننے کے بجائے مصالحت کار کا کردار ادا کرنا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی عالمی امن اور معاشی استحکام کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ تیل اور گیس کا عالمی بحران دنیا بھر کی معیشتوں کا گلہ گھونٹ رہا ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد سے خام تیل کی عالمی قیمتیں 72ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 103ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ قدرتی گیس کی صورتحال اس سے زیادہ تشویشناک ہے۔

توانائی کے عالمی بحران نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کو علاقائی کے بجائے عالمی مسئلہ بنا دیا ہے۔ آج جاپان سے یورپ تک کوئی بھی ایسا نہیں جس کیلئے یہ بحران تشویش کا سبب نہ ہو۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کا سفارتی میدان میں متحرک ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ پاکستان کی اس سفارتی مہم کی ایک نمایاں کڑی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ اہم ٹیلی فونک گفتگو ہے جس نے جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی دوران وزیراعظم شہباز شریف کا ایران کے صدر سے رابطہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کیلئے پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کو واضح کرتا ہے۔ پاکستان نے تاریخ کے ایک نازک موڑ پر نہایت دانشمندی سے خود کو ایک ایسے ثالث کے طور پر پیش کیا ہے جس پر واشنگٹن اور تہران دونوں اعتماد کر سکتے ہیں۔ متحارب فریقوں کی جانب سے پاکستان کی مصالحانہ کوششوں کے مثبت جواب سے پاکستان کا سفارتی قد بلند ہوا ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ مسائل کا حل بامقصد مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔ ایران اور امریکہ کو اسلام آباد میں میزبانی کی پیشکش ایک تاریخی اقدام ہے جو پاکستان کے مصالحانہ کردار کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ چین سمیت کئی بااثر ممالک نے پاکستان کی جانب سے اس پہل کی تحسین کی ہے جو اس بات کی تصدیق ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں عالمی سطح پر اہمیت کی حامل ہیں۔ گزشتہ برس جون میں بھی جب امریکہ‘ اسرائیل اورایران میں کشیدگی بھڑک اٹھی پاکستان نے اُس وقت بھی جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

اس کامیاب سفارتی اقدام نے پاکستان کو ایسی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جہاں پیچیدہ عالمی مسائل کے حل میں اس کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی عالمی معیشت‘ تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک توانائی کے اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں‘ لہٰذا مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری دنیا اور تمام انسانیت کے مفاد میں ہے؛چنانچہ اس حوالے سے سفارتی کوششوں کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ دیگر بڑی علاقائی اور عالمی طاقتوں کو بھی امن کی ان کاوشوں میں شریک کیا جانا چاہیے کیونکہ پائیدار امن محض کسی ایک خطے کی نہیں بلکہ عالمی معیشت اور پوری دنیا کے استحکام کیلئے ناگزیر ہے۔ جنگ بندی اور پائیدار امن کی کوششیں اگر کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بڑی فتح ہوگی بلکہ عالمی امن کی تاریخ میں ایک سنہرے باب کا بھی اضافہ ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں